بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

پاسپورٹ پر گاڑی منگوانے کے عوض رقم وصول کرنے کی جائز صورت


سوال

حکومت پاکستان نے ان پاکستانیوں کو جو باہر ممالک میں رہتے ہیں یا کام کرتے ہیں یہ حق دیا ہے کہ وہ دوسرے ممالک مثلا جاپان سے گاڑی منگوانا چاہیں تو منگواسکتے ہیں وہاں پر سستی قیمت سے خرید کر پاکستان میں نفع کے ساتھ فروخت کرتے ہیں اور یہ حق صرف باہر ممالک میں رہنے یا کام کرنے والے پاکستانیوں  کو حاصل ہے اب اگر ان میں سے کوئی شخص ایسا ہو جو اس کام کے طریقہ کا ر اور اس کے اصولوں سے واقف نہ ہو او ر دوسرا پاکستان میں مقیم شخص اس کام کے طریقہ کار اور اصولوں سے واقف ہو تو اگر یہ باہر ملک میں رہنے والا شخص اپنا پاسپورٹ اس پاکستان میں مقیم شخص کو دےدے اور وہ اس کے ذریعے باہر ملک سے گاڑی در آمد کرائے اور اس گاڑی کی قیمت اور اس پر آنے والا ٹیکس یہ پاکستان میں مقیم شخص ادا کرے باہر والا شخص صرف پاسپورٹ دےدے اور پھر دونوں گاڑی کے منافع اپنے درمیان پہلے سے طے شدہ حساب سے تقسیم کرلیں تو کیا مذکورہ شراکت کے ذریعے منافع دونوں کے لیےحلال ہے یا نہیں؟اگر حلال نہیں توکیا اس کی کوئی جائز صورت بن سکتی ہے ؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے خدمات یا منافع کے عوض اجرت حاصل کرنا اجارہ کہلاتا ہے عقد اجارہ کی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ معقود علیہ مال متقوم ہو اور اس سے حاصل کی جانے والی منفعت منفعت مقصودہ ہو چونکہ حکومت کی جانب سے پاسپورٹ کا جاری کرنابیرون ملک آمدورفت کے لیے ہوتا ہے اس سے گاڑی منگوانا کوئی منفعت مقصودہ نہیں  اس لیے اس غرض کے لیے پاسپورٹ کرایہ پر دینا شرعا جائز نہیں ۔

صورت مسئولہ کے مطابق کسی کمپنی یا ایجنٹ کو اپنا پاسپورٹ اس لیے دینا کہ وہ اس پر باہر سے گاڑی پاکستان لائے اور محض اس پاسپورٹ دینے کے عوض اجرت وصول کی جائے یہ جائز نہیں تا ہم اگر پاسپورٹ دینے والا شخص گاڑی خریدنے اور منگوانے میں اپنے کچھ پیسے بھی شامل کرے اور دونوں اس کام میں شریک ہو جائیں تو ایسی صورت میں اس شرکت کی بنیاد پر منافع میں اپنا طے شدہ حصہ لے سکتا ہے ۔

ومنها أن تكون المنفعة مقصودة معتادا استيفاؤها بعقد الإجارة ولا يجري بها التعامل بين الناس فلا يجوز استئجار الأشجار لتجفيف الثياب عليها۔(الفتاوى الهندية ،كتاب الاجارة ،الباب الاول ،ج4،ص441)

 أما شركة العنان فهي أن يشترك اثنان في نوع من التجارات بر أو طعام أو يشتركان في عموم التجارات ۔(الفتاوى الهندية ،كتاب الشركة ،الفصل الاول في تفسيرها ۔۔۔،ج 2،ص319)


فتویٰ نمبر : 2832/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں