بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

جائز و ناجائز


سوال

حضرات مفتیان کرام پاک قطر تکافل میں بطور ایجنٹ کام کرنا کیساھے براۓ کرم وضاحت فرمائیں جزاکم اللہ خیرا

جواب

       اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ عالمی معاشی نظام کا بیشتر حصہ غیرمسلموں کے ہاتھوں تشکیل شدہ ہے، اس لیے اس میں اسلامی اصولوں کی رعایت نہیں رکھی گئی ہے، جس کے نتیجے میں یہ نظام سود، قمار، غرر، اور بیع باطل وغیرہ کئی خرابیوں پر مشتمل ہے۔  چونکہ معیشت انسانی زندگی کی بنیادی ضروریات میں سے ہے، اس لیے گزشتہ کئی دہائیوں سے علماے کرام اس کے متبادل کے طور پر اسلامی معاشی نظام کی تشکیل کی کوششیں کر رہے ہیں اور الحمد للہ بہت حد تک اس میں کامیاب بھی ہوئے ہیں، چنانچہ روایتی بنک کے متبادل کے طور پر اسلامک بنکنگ، اور انشورنس کے متبادل کے طور پرتکافل انہی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ تاہم ہماری معلومات کی حد تک تکافل کے حوالے سے ابھی تک وہ معیاری سسٹم وجود میں نہیں آیا ہے جس کے بارے میں مکمل اعتماد کے ساتھ فتوی دیا جاسکے، اس لیے فی الحال ہماری رائے یہ ہے کہ جب تک کوئی قانونی ضرورت نہ ہو تو اس سے احتراز کیا جائے، تاہم جہاں کہیں انشورنس قانونی ضرورت ہو تو اس صورت میں عام انشورنس کی بجائے اسلامی تکافل کو ترجیح دینی چاہیے۔

 

عن النعمان بن بشير، يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " الحلال بين، والحرام بين، وبينهما مشبهات لا يعلمها كثير من الناس، فمن اتقى المشبهات استبرأ لدينه وعرضه، ومن وقع في الشبهات: كراع يرعى حول الحمى، يوشك أن يواقعه.(صحيح البخاري، کتاب الایمان، باب فضل من استبرأ لدينه، رقم الحدیث:52 ، ج:1/ص:23)


فتویٰ نمبر :

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں