بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

پیشگی رقم کو کرائے کی اجرت مقرر کرنا


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ

(1)کوئی مالک کسی دکان کو جو ابھی بنی نہیں ہے ،کرایہ پر دینے کا وعدہ کرتا ہے اور اس میں پیشگی مثلاً 2لاکھ روپے لیتا ہے جو مکان دینے کے بعد کرایہ کی سہولت میں  پیشگی  کرایہ سے منہا ہوتا جائے گا؟

(2)کرایہ 2ہزار مقرر ہوا ، ایک ہزار اس پیشگی کرایہ 2لاکھ سے منہا ہوگا اور ایک ہزار کرایہ دار نقد ادا کرے گا ہر ماہ؟

(3)مالک مکان زمین دیتا ہے  اور کرایہ  دار اپنے سرمایہ  سے  دوکان  اور مکان  بنا لیتا ہے مثلاً 4لاکھ  میں دوکان بنا اور کرایہ دار سے ہر ماہ 2ہزار کے حساب سے مالک کو دیا ہوا شمار کیا جائے ،جب یہ چار لاکھ پورا ہوجائے تو مکان مالک زمین کا ہوجائے اور از سر نو پھر اجارہ ہوجائے  ؟

(4)جب تک 4لاکھ کرایہ کا وقت پورا نہ  ہو یہ بنا ہوا مکان کس کا ہے کرایہ دار کا یا  مالک زمین کا ؟

(5)کرایہ دار مکان چھوڑرہا ہے تو پیشگی ادا کردا کرایہ کا کیا ہوگا ،کیا اجارہ تھوڑا جاسکتا ہے ،جب کہ مالک مکان راضی نہ ہو؟

جواب

 کرایہ دار سے سیکورٹی کے طورپرکچھ رقم وصول کرنادرست ہے ۔یہ رقم دکان یامکان کے مالک کے پاس بطورامانت یا قرض ہوگی ،دکان چھوڑتے وقت یہ رقم کرایہ دارکوواپس لوٹانالازم ہے۔

(1)صورت مسؤلہ کے مطابق مالک مکان کا کرایہ دار سے 2لاکھ  ایڈوانس لینےاور مکان بننے کے بعد اجرت پر دینے کا وعدہ کرنے کی شرعا گنجائش ہے، کیونکہ اصل کرایہ کا معاملہ دکان تیار ہونے کے بعد سے شروع ہوگا،اس صورت میں یہ رقم مالک  مکان کے پاس بطور قرض رہےگی۔

(2)اسی طرح اس بات کی بھی گنجائش ہے کہ طرفین آپس میں یہ طے کریں  کہ کرایہ کا بعض حصہ ایڈوانس کی  رقم سےمنہا ہوگا اور کچھ حصہ  نقد مستاجر سے لیا جائے گا  ۔

(3)اگر مالک  زمین اپنی زمین کرایہ دارکو اجرت پر دےاور اس سے کہےکہ تم  اس پراپنے سرمائے سے  دوکان بناؤ اور جتنا خرچ آئے وہ میرےذمے  تمھارا قرض ہوجائےگا پھر ماہانہ کرایہ  اس  خرچ شدہ  رقم میں سے شمار کیا جائے گا،اور جب وہ  رقم ختم ہوجائے تو  ازسرنو عقد اجارہ کریں گےتوشرعاً اس طرح کا عقد کرنا درست ہے ۔کیونکہ  اس صورت میں کرایہ  دار مالک زمین کا وکیل بن  کر اس کے  لیے تعمیر کرے گا اور رقم مالک زمین کے  ذمے قرض ہوگی اور پھر اس قرض رقم سے کرایہ کی مقدار ماہانہ منہا ہوتی رہے گی۔

(4) نمبر 3میں جو صورت ذکر ہوئی اگر اس طرح کا عقد ہوا ہوتو مکان تعمیر ہونے کے ساتھ ہی مالک زمین کی ملکیت میں ہوگا ۔

(5)اگرکرایہ دار دوکان کو مدت اجارہ  سے پہلے چھوڑناچاہے  تومالک مکان کو ایڈوانس رقم روکنے کی اجازت نہیں بلکہ واپس کرنا ضروری ہے کیونکہ  یہ رقم مالک مکان کے پاس بطورقرض ہوتی ہے  ۔ 

وتصحّ الإجارة مضافة وكذا فسخها۔قال فی الدرالمنتقی :ای الی الزمان المستقبل کآجرتک او فاسختک راس الشہر او اول رمضان وھو فی شعبان ۔(ملتقی الابحر ،ج3ص563)

الْوَكِيلُ بِالشِّرَاءِ يُطَالَبُ بِالثَّمَنِ من مَالِ نَفْسِهِ وَإِنْ لم يَدْفَعْ إلَيْهِ الْمُوَكِّلُ بَعْدَ ذلك وَلِلْوَكِيلِ أَنْ يَرْجِعَ على الْمُوَكِّلِ بِالثَّمَنِ قبل أَنْ يُؤَدِّيَ من مَالِ نَفْسِهِ وَلَهُ أَنْ يَحْبِسَ الْمُشْتَرَى من الْمُوَكِّلِ إلَى أَنْ يَأْخُذَ منه ما نَقد۔۔۔وليس له أَنْ يَمْتَنِعَ عن دَفْعِ الثَّمَنِ لِأَنَّهُ صَارَ دَيْنًا في ذِمَّةِ الْآمِرِ كَذَا في الْبَحْرِ.(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الاجارۃ ،ج3ص498)

لو کان للمستاجر علی الاجر دینارفتقاصا ،یجوز ،وان کان الجنس مختلفا بالتراضی کذا فی الوجیز۔(الفتاوی الھندیۃ ،کتاب الاجارۃ ج4ص570)


فتویٰ نمبر : 2830/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں