بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

دعا کے بعد بار بار آمین کہنا


سوال

 دعا کے آخرمیں بعض حضرات سے تین دفعہ آمین سنا ہے ۔ آمین آمین آمین برحمتک یا ارحم الراحمین، کیا کسی کتاب میں اس کا کوئی ذکر موجود ہے ؟رہنمائی فرمائیں ۔

جواب

          واضح رہے کہ دعا ایک عبادت ہے اور دعا کے بعد آمین کہنا اس کی قبولیت کی درخواست ہے،کیونکہ آمین کامعنی ہے"اےاللہ  ہماری دعا قبول فرما"آمین کہنے میں شرعا کوئی تحدید نہیں ، اس لیے  دعا کے بعد  ایک سے زیادہ بار  بھی آمین کہنا جائز ہے، چنانچہ کتب سیرت میں ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دار فانی سے دار باقی کی طرف انتقال کے بعد جب ابوبکر صدیق اور عمر فاروق رضی اللہ عنہما حجرہ مبارک میں نماز جنازہ کے لیے داخل ہوئےاور چند دیگر صحابہ بھی ساتھ تھے تو ابوبکر اور عمررضی اللہ عنہما دعا کرتے تھےاور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آمین آمین کہتے تھے،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  کے اس عمل کو سامنے رکھتے ہوئے دعا کے بعد ایک بار سے زائد امین کہنے میں کوئی حرج نہیں  ۔

قال الواقدي : حدثني موسى بن محمد بن إبراهيم قال : وجدت صحيفة كتابا بخط أبي فيه : أنه لما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم ووضع على سريره ، دخل أبو بكر وعمر ومعهما نفر من المهاجرين والأنصار ، قدر ما يسع البيت وقالا : السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته ، وسلم المهاجرون والأنصار كما سلم أبو بكر ، ثم صفوا صفوفا ، لا يؤمهم عليه أحد ، فقال أبو بكر وعمر وهما في الصف الأول حيال  رسول الله صلى الله عليه وسلم : اللهم إنا نشهد أن قد بلغ ما أنزل إليه ، ونصح لأمته ، وجاهد في سبيل الله ، حتى أعز الله تعالى دينه ، وتمت كلمته ، وأومن به وحده ، لا شريك له ، فاجعلنا إلهنا ممن يتبع القول الذي أنزل معه ، واجمع بيننا وبينه ، حتى تعرفه بنا ، وتعرفنا به ، فإنه كان بالمؤمنين رءوفا رحيما لا نبغي بالإيمان بدلا ، ولا نشتري به ثمنا أبدا ، فيقول الناس : آمين آمين ، فيخرجون ، ويدخل آخرون ، حتى صلى عليه الرجال ، ثم النساء ، ثم الصبيان۔ (دلائل النبوة،ابواب مرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، باب ما جاء في الصلوة على رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ،ج:7،ص:250)


فتویٰ نمبر : 4671/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں