بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

گاڑی زمین اور آمدن والے شخص پر فرضیت حج


سوال

(1) ایک شخص کے پاس نقد پیسے نہ ہو، البتہ اس کی ملکیت میں  گاڑیاں اور زمین بھی ہو اور جو کچھ نقد پیسے آتے ہیں اس کو کاروبار میں لگاتا ہے۔ کیا یہ گاڑیاں اور زمین حاجت اصلیہ میں شمارہیں یا نہیں؟

(2) اوراس کے ماہانہ آمدن تقریباً دو لاکھ یا ڈھائی لاکھ اوسطاً ہوتا ہے اور کبھی ایسا مہینہ بھی آتا ہے کہ آمدن بالکل نہیں ہوتا۔ تو کیاایسےشخص پر حج فرض ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ فرضیت حج کےلیے مالی استطاعت ضروری ہے۔ استطاعت کی وضاحت فقہائے کرام نے اس طرح کی ہے کہ ضروریات اصلیہ سے زائد اتنا مال کسی کے پاس ہو جس سے مکہ مکرمہ آنے جانےکا کرایہ اور دورانِ سفر کے ضروری اخراجات برداشت کرسکتا ہو اوراس دوران گھروالوں کےاخراجات بھی اٹھا سکتا ہو،لہذا صورت مسئولہ میں:

(1)اگر سائل کی ملکیت میں موجود زمین اور گاڑیاں ضروریات سے زائد ہوں اور اس کوفروخت کرکے اس کی قیمت سے  حج کےلیے آنے جانے کے اخراجات اوراہل وعیال کے اخراجات پورے ہوسکتے ہوں تو اس پر حج فرض ہوگا۔لیکن اگر یہ زمین اور گاڑی ضرورت سے زائد نہ ہو ، اور اس کے علاوہ اس کے پاس اتنی نقدی یا سونا چاندی نہ ہو جس سے حج کے اخراجات ادا کرسکے تو اس صورت میں اس پر حج فرض نہ ہوگا۔

(2)اگر سائل کے پاس سامانِ تجارت اتنی مقدار میں ہو کہ وہ  اس کا کچھ حصہ فروخت کرکے حج کے اخراجات برداشت کرسکتا ہواور باقی ماندہ سامان تجارت کاروبار چلانے کے لیےکافی ہو یعنی ادائیگی حج کے بعد وہ اس سے تجارت برقراررکھ سکتا ہوتو اس صورت میں اس پر حج فرض ہوگا، ورنہ نہیں۔

وَتَفْسِيرُ مِلْكِ الزَّادِ وَالرَّاحِلَةِ أَنْ يَكُونَ له مَالٌ فَاضِلٌ عن حَاجَتِهِ وهو ما سِوَى مَسْكَنِهِ وَلِبْسِهِ وَخَدَمِهِ وَأَثَاثِ بَيْتِهِ قَدْرَ ما يُبَلِّغُهُ إلَى مَكَّةَ ذَاهِبًا وَجَائِيًا رَاكِبًا لَا مَاشِيًا وَسِوَى ما يَقْضِي بِهِ دُيُونَهُ وَيَمْسِكُ لِنَفَقَةِ عِيَالِهِ وَمَرَمَّةِ مَسْكَنِهِ وَنَحْوِهِ إلَى وَقْتِ انْصِرَافِهِ. (الفتاوی الہندیۃ ،کتاب المناسک ،الباب الأول:فی تفسیر الحج، ج1ص281)

إنْ كان الرَّجُلُ تَاجِرًا يَعِيشُ بِالتِّجَارَةِ فَمَلَكَ مَالًا مِقْدَارَ ما لو رَفَعَ منه الزَّادَ وَالرَّاحِلَةَ لِذَهَابِهِ وَإِيَابِهِ وَنَفَقَةِ أَوْلَادِهِ وَعِيَالِهِ من وَقْتِ خُرُوجِهِ إلَى وَقْتِ رُجُوعِهِ وَيَبْقَى له بَعْدَ رُجُوعِهِ رَأْسُ مَالِ التِّجَارَةِ التي كان يَتَّجِرُ بها كان عليه الْحَجُّ وَإِلَّا فَلَا . (الفتاوی الہندیۃ ،کتاب المناسک ،الباب الأول:فی تفسیر الحج، ج1ص281)

وَإِنْ كان صَاحِبَ ضَيْعَةٍ إنْ كان له من الضَّيَاعِ ما لو بَاعَ مِقْدَارَ ما يَكْفِي الزَّادَ وَالرَّاحِلَةَ ذَاهِبًا وَجَائِيًا وَنَفَقَةَ عِيَالِهِ وَأَوْلَادِهِ وَيَبْقَى له من الضَّيْعَةِ قَدْرُ ما يَعِيشُ بَغْلَةِ الْبَاقِي يُفْتَرَضُ عليه الْحَجُّ وَإِلَّا فَلَا.(الفتاوی الہندیۃ ،کتاب المناسک ،الباب الأول:فی تفسیر الحج، ج1ص281)


فتویٰ نمبر : 8775/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں