بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

موجودہ دور میں زنا کی سزا


سوال

 آج کل جبکہ اسلامی حدود کا کوئی تصور نہیں  تو ایسے حالات میں اگر کوئی شخص زنا کا ارتکاب کرے اور پھر وہ اپنے آپ کو سزا دینے کا مطالبہ کرے  تو اس کو سزا دینے کا طریقہ کا رکیا ہوگا اور اس کو سزا دینے کا حق  کس کو  حاصل ہے؟              

جواب

شریعت مطہرہ  نے انسان کو حتی الوسع گناہ سے بچنے کی تلقین کی ہے، پھر بھی اگر انسان سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو اس کو چاہئے کہ اس گناہ کو لوگوں کی سامنے بیان کرنے کی بجائے اپنےآپ پر پردہ ڈال کر اللہ تعالی سے توبہ واستغفار کرے۔

                صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص زنا کا ارتکاب کرے تو اس کو چاہئے کہ زنا کا اقرار کرنے کی بجائے سچے دل سے اللہ تعالی سے توبہ واستغفار کرے، تاہم اگر زنا کے ارتکاب کے بعد قاضی کے علاوہ عام لوگوں کے سامنے اقرار کرلے تو اس اقرار پر اس کو کوئی سزا نہیں دی جاسکتی کیونکہ شریعت میں زنا کی سزا حد مقرر ہےاور حد نافذکرنا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے، اگر کہیی اجرائے حدود کا نظام نہ ہو تو وہاں کوئی حد جاری نہیں کر سکتا البتہ مجرم پر لازم ہے کہ وہ بہر صورت توبہ کرے اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ عزم کرے۔

 

 "سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، طَهِّرْنِي، فَقَالَ: «وَيْحَكَ، ارْجِعْ فَاسْتَغْفِرِ اللهَ وَتُبْ إِلَيْهِ»۔۔۔ (صحيح مسلم، باب حد الزنا، حديث نمبر: 1695)

  "قال عياض: فائدة سؤاله: أبك جنون؟ سترا لحاله واستبعاد أن يلح عاقل بالاعتراف بما يقتضي إهلاكه، أو لعله يرجع عن قوله"( فتح الباري بشرح عمدة القارئ، كتاب الحدود، ج:14، ص: 83)

   "يثبت الزنا بإقراره كذا في البحر الرائق. ولا يعتبر إقراره عند غير القاضي ممن لا ولاية له في إقامة الحدود" (الفتاوى الهندية، كتاب الحدود، الباب الاول: في تفسيره شرعا،وركنه، وحكمه، ج: 2، ص: 156)


فتویٰ نمبر : 4641/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں