بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

سانڈ اجرت پر دینا


سوال

 کیا فرماتے ہیں مفتیان  کرام کہ حمل کے لیے سانڈ کا پالنا اور اس پر اجرت لینا کیسا ہے ؟

(2)اگر بلا اجرت سانڈ دستیاب نہ ہو تو جفتی کے لیے اجرت دینا درست  ہے یا نہیں ؟

جواب

  احادیث مبارکہ میں سانڈ کی جفتی پر اجرت لینے کو حرام کمائی قرار دیا گیا ہے چنانچہ ایک حدیث شریف میں ہے کہ آپﷺنے سانڈ کی اجرت سے منع فرمایا ہے ۔ نیز  اجرت لینے کے لیے یہ ضروری ہے کہ جس چیز سے نفع اٹھایا جائے  وہ اس شخص کی ملکیت میں ہو ،چونکہ حمل ٹھہرانا اس کے اختیار میں نہیں ہے اس پر اس کی ملکیت ثابت نہیں ہوتی  اس لیے اس پر اجرت لینا شرعاً جائز نہیں ۔

لہذاصورت مسؤلہ میں سانڈ کو خاص اسی مقصد کے لیے پالنا اور اس پر اجرت لینا شرعاًجائز نہیں،تاہم اجرت طے کیے بغیر اگر جانور کے لیے چارہ وغیرہ کے طور پر کچھ دیاجائےتو اس کے لینے کی گنجائش ہے   ۔

(2) اگر سانڈ بغیر اجرت کے نہ ملتا ہو تو اس کے لیے کوئی متبادل ایسی صورت اختیار کی جائے جو شرعاً جائز ہو۔

  عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْيمٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنَّهُ:" نَهَى عَنْ عَسْبِ التَّيْسِ ، وَكَسْبِ الْحَجَّامِ ، وَقَفِيزِ الطَّحَّانِ "(شرح مشکل الاثار، ج2ص186ح709)

قال رَحِمَهُ اللَّهُ ( لَا أُجْرَةِ عَسْبِ التَّيْسِ ) يَعْنِي لَا يَجُوزُ أَخْذُ أُجْرَةِ عَسْبِ التَّيْسِ لِقَوْلِهِ عليه الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ إنَّ من السُّحْتِ عَسْبَ التَّيْسِ وَمَهْرَ الْبَغِيِّ وَلِأَنَّهُ عَمَلٌ لَا يَقْدِرُ عليه وهو الْإِحْبَالُ فَلَا يَجُوزُ أَخْذُ الْأُجْرَةِ عليه وَلَا أَخْذُ الْمَالِ بِمُقَابَلَةِ الْمَاءِ وهو نَجِسٌ لَا قِيمَةَ له فَلَایجوز،وَالْمُرَادُ هُنَا اسْتِئْجَارُ التَّيْسِ لِيَنْزُوَ على الْغَنَمِ وَيُحْبِلَهَا بِأَجْرٍ أَمَّا لو فَعَلَ ذلك من غَيْرِ أَجْرٍ لَا بَأْسَ بِهِ لِأَنَّ بِهِ يَبْقَى النَّسْلُ۔(البحر الرائق ج8ص21)

( وَلَا يَجُوزُ أَخْذُ أُجْرَةِ عَسْبِ الْفَحْلِ ) أَيْ ضِرَابِهِ ( وَهُوَ أَنْ يُؤَجِّرَ فَحْلًا لِيَنْزُوَ عَلَى الْإِنَاثِ ) وَخَرَجَ بَعْضُ الشَّافِعِيَّةِ وَالْحَنَابِلَةِ لِجَوَازِهِ وَجْهًا ، وَهُوَ أَنَّهُ انْتِفَاعٌ مُبَاحٌ وَلِهَذَا جَازَ بِطَرِيقِ الِاسْتِعَارَةِ وَالْحَاجَةُ تَدْعُو إلَيْهِ فَكَانَ جَائِزًا كَاسْتِئْجَارِ الظِّئْرِ لِلْإِرْضَاعِ ، قُلْنَا هُوَ مُخَالِفٌ لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " { إنَّ مِنْ السُّحْتِ عَسْبَ التَّيْسِ } رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ ( وَمُرَادُهُ أَخْذُ الْأُجْرَةِ عَلَيْهِ ) ،)عنایۃ شرح الھدایۃ ج 12ص392)


فتویٰ نمبر : 2828/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں