بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

ویزہ کی خرید و فروخت کا حکم


سوال

1۔کیا ویزہ کی خرید وفروخت شرعاً جائز ہے یا نہیں

2۔نیز ویزہ کو نقد ایک قیمت پر جبکہ ادھار یا قسطوں میں زیادہ قیمت پر فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ کسی ملک کا ویزہ اس ملک میں داخل ہونے اور وہاں متعین مدت تک ٹھہرنے کا حکومت کی طرف سے تحریری اجازت نامہ ہوتا ہے، جو حقوق مجردہ کی فہرست میں داخل ہے ،چونکہ ویزہ کے حصول کے لیے وقت اور مال خرچ کرنا پڑتا ہےاور اس کے حامل کو متعلقہ ملک میں داخلے اور رہنے کا حق حاصل ہوجاتا ہےاور عرف میں یہ حق اعیان (مادی اشیاء)کی طرح ہوگیا ہے اس لیے اس کا عوض لینا جائز ہوگا۔

لہذا صورت مسئولہ میں 1۔جب متعلقہ ملک نے ویزہ خود استعمال کرنے یا کسی پر فروخت کرنے کا اختیار دیا ہو، تو اس کو کسی اور پر فروخت کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔2۔ نیز ویزہ کو نقد کم قیمت پر جبکہ ادھار یا قسطوں میں زیادہ قیمت پر فروخت کرنا بھی شرعاً جائز ہے،بشرطیکہ عاقدین عقد کے وقت ہی بیع مؤجل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں حتمی فیصلہ کرکے کسی ایک ثمن پر متفق ہوجائیں ، چنانچہ اگر بائع یہ کہے کہ میں نقد اتنے پر اور ادھار اتنے میں بیچتا ہوں اور اس کے بعد کسی ایک قیمت پر اتفاق کیے بغیر دونوں جدا ہوجائیں تو یہ عقد جائز نہیں،لیکن اگر عاقدین مجلس عقد میں کسی ایک قیمت پر اتفاق کرلیں تو یہ عقد جائز ہے۔

والمالية تثبت بتمول الناس كافة أو بعضهم، والتقوم يثبت بها وبإباحة الانتفاع به شرعا.(ردالمحتار، کتاب البیوع، مطلب فی تعریف المال والملک والمتقوم، ج:7 ص:10 دارالکتب العلمیۃ)

وفي الأشباه لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف، وفيها في آخر بحث تعارض العرف مع اللغة. المذهب عدم اعتبار العرف الخاص لكن أفتى كثير باعتباره وعليه فيفتى بجواز النزول عن الوظائف بمال.(الدرالمختار علی صدر رد المحتار ، كتاب البيوع ، مطلب في النزول عن الوظائف ، ج:7 ص:35 دارالكتب العلمية)

الأجل في نفسه ليس بمال فلا يقابله شيء حقيقة إذا لم يشترط زيادة الثمن بمقابلته قصدا، ويزاد في الثمن لأجله إذا ذكر الأجل بمقابلة زيادة الثمن قصدا(البحرالرائق ، كتاب البيوع ،باب المرابحة والتولية ، ج:6 ص:16 دارالكتب العلمية)


فتویٰ نمبر : 2826/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں