بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 19/10/2026 |
دارالافتاء
غسل کے بعد وضو کرنے کا حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا غسل کے بعد وضو کرنا ضروری ہے یا نہیں؟
جواب
مسنون طریقہ تو یہ ہے کہ غسل شروع کرنے سے پہلے وضو کر لیا جائے اور اس کے بعد غسل کیا جائے۔لیکن اگر کوئی شخص غسل کرنے سے پہلے وضو نہ کرے، اور صرف غسل کرے تو غسل کے بعد وضو کی ضرورت نہیں، کیونکہ غسل کرنے سے اعضائے وضو بھی دھل جاتے ہیں.
صورت مسؤلہ میں غسل کے بعد مستقل وضو کرنے کی ضرورت نہیں۔ البتہ اگر غسل کے بعد وضو ٹوٹ گیا تو پھر نماز کے لیے وضو کرنا ضروری ہو گا۔
عن عائشۃ رضی اللہ عنھا، أن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم لا یتوضأ بعد الغسل.( جامع الترمذی، کتاب الطھارۃ، باب فی الوضوء بعد الغسل،ج١، ص٢٥١، مكتبة البشرى)
كان النبي صلى الله عليه وسلم لا يتوضا بعد الغسل أي إكتفاء بوضوئه الأول في الغسل وهو سنة، أو بإندراج ارتفاع الحدث الأصغر تحت ارتفاع الأكبر بإيصال الماء إلى جميع أعضائه و هو رخيصة..... قال ابن حجر: وقالوا: ولا يشرع الوضوان إتفاقا للخبر الصحيح" كان عليه السلام لا يتوضأ بعد الغسل من الجنابة")مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح،کتاب الطھارۃ، باب الغسل، الفصل الثاني،ج٢،ص١٤٨، المكتبة الحقانية)
وفي جامع الجوامع : ومن يوجب الوضوء مع الغسل، غلط.( الفتاوى التاتارخانية، كتاب الطهارة، فصل في الغسل،ج١،ص٢٧٦، مكتبه رشيديه )
ومن العلماء من أوجب الوضوء بعد افاضۃ الماء وقد روی انکار ذلک عن علي وابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما۔ وسئل عن ابن عمر رضی اللہ عنہما عن ذلک فقال للسائل قد تعمقت، أما یکفیک غسل جمیع بدنک۔ )کتاب المبسوط لشمس الدین السرخسی رحمہ اللہ كتاب الطهارة، باب الوضوء والغسل،ج١، ص٤٤، دار الكتب العلمية بيروت لبنان)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 328
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 244
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 891
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 574
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 493
- خلع | فتاوئ : 49
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 59
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 476
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 176
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 410
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 152
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 62
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 322
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1191
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں