بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

فلاحی ٹرسٹ کے لیے موقوفہ زمین میں رجوع کا حکم


سوال

ایک علاقہ میں چھ سال پہلے ایمن فلاحی ٹرسٹ کے لیے زمین وقف کردی گئی تھی ۔ان چھ سالوں میں اس پر کوئی کام نہیں ہوا صرف بنیادیں رکھی گئی ہیں جس پر تقریباً ساڑھے 4 لاکھ روپے کا خرچہ ہو ااس کے بعد اس پر کوئی کام نہیں ہوا ہے ۔واقف (انتخاب اختر)نے اپنی زندگی میں بار بار اس بات کا تذکرہ کیا تھا کہ اگر زمین پر ٹرسٹ نہیں بن رہا تو میں اس وقف سے رجوع کرتا ہوںاب وہ شخص وفات پاگیا اس کے ورثا اس وقف کو واپس کرنا چاہتے ہیں اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جب کوئی زمین کسی خاص مصرف کے لیے وقف کی جائے اور اس میں وقف  تام ہوجائے مثلا ًقبرستان کے لیے موقوفہ زمین میں مالک کی اجازت سے مردے دفنائے جائیں یامسجد کے لیے موقوفہ زمین میں باجماعت نماز ادا کی جائےاور یا سرائے خانہ کے لیے وقف زمین میں مسافر قیام کریں  تو شرعاً یہ زمین واقف کی ملکیت  سے نکل جاتی ہے ۔لیکن اگر کسی زمین   میں وقف ابھی تک تام نہ ہوا ہو تو  زمین بدستور مالک کی ملکیت ہوگی۔

                صورت ِ مسؤلہ میں (1)اگر فلاحی  ٹرسٹ  کے لیے  موقوفہ  زمین میں وقف تام نہ ہوا ہو یعنی جس مصرف کے لیے یہ زمین وقف کی گئی تھی ابھی تک یہ زمین اس متعلقہ مصرف میں استعمال نہ ہوئی ہواور نہ ہی انتقال کے کاغذات  میں وقف درج ہوا ہو تو ایسی صورت میں یہ زمین مالک  کی ملکیت سے نہیں نکلی ہے لہذا مالک کے فوت ہونے کے بعد یہ زمین ترکہ میں شمار کی جائے گی ۔

(2)اگر واقف نے اپنی زندگی میں مذکورہ زمین وقف کرکے متولی  کے حوالہ کی ہو اور اس زمین کا  انتقال وقف کے نام کروادیا گیا ہو  تو وقف تام شمار ہوگا چنانچہ اب ورثا کے لیے رجوع کا حق نہ ہوگا۔

وعند أبي محمد رحمه الله تعالى إذا استقى الناس من السقاية وسكنوا الخان والرباط ودفنوا في المقبرة زال الملك ويكتفى بالواحد لتعذر فعل الجنس كله وعلى هذا البئر والحوض ولو سلم إلى المتولي صح التسليم في هذه الوجوه كذا في الهداية۔(الفتاوى الهندية،كتاب الوقف،الباب الثاني عشر في الرباطات۔۔۔ج2ص415)

وعند محمد لا یزول ملک الواقف إلا بالتسليم إلى المتولي أو إلى الموقوف عليه ۔۔۔حتى أن على قوله لو لم يسلم الوقف إلى المتولي لا يزول ملكه فله أن يرجع في ذالك وإذا مات يورث عنه۔(الفتاوى التاتارخانية،كتاب الوقف،الفصل 2،ج8ص10)

والحاصل أن التسليم على قو ل من يشترط التسليم وهو قول محمد يكون بإحدى طريقيتين :إما بإثبات  اليد للقيم عليها أو لحصول المقصود  وذالك بالسكنى في مسئلة الدار وبالنزول في مسئلة الخان وبالدفن في مسئلة القبر وماأشبه ذالك ۔(أيضا،الفصل 22،ج8ص185)

قوله ( والملك يزول بالقضاء لا إلى مالك ) أي ملك العين الموقوفة يزول عن ملك المالك بقضاء القاضي بلزوم الوقف من غير أن ينتقل إلى ملك أحد وهذا أعني اللزوم بالقضاء متفق عليه لأنه قضاء في محل الاجتهاد فينفذ۔۔۔وعند محمد لا بد من التسليم إلى المتولي والإفراز والتأبيد ۔(البحر الرائق،كتاب الوقف ،ج5ص328)


فتویٰ نمبر : 4619/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں