بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

شوہر سے خالی کاغذ پر دستخط لے کر اس پر خلع نامہ تحریر کرنا


سوال

اگر کوئی عورت اپنے شوہر سے خالی کاغذ پر دستخط لے لےاور بعد میں اپنی طرف سے اس پر خلع کی تحریر لکھ دےتو کیا خلع واقع ہو گا یا نہیں؟

جواب

شریعت مطہرہ میں خلع دیگر عقود کی طرح ایک عقد ہے جو زوجین کے ایجاب وقبول کے بغیر نہیں ہوسکتا چنانچہ اگر میاں بیوی کے مابین    ایجاب وقبول نہ ہوجائے تو خلع واقع نہیں ہوتی ۔

       صورتِ مسؤلہ کے مطابق  اگر کوئی عورت شوہر سے خالی کاغذ پر دستخط لے لے اور میاں بیوی کے مابین  زبانی طور پر خلع کامعاملہ طے  نہ ہوا ہو پھر  بعد میں بیوی  دستخط  شدہ صاف  کاغذ پر خلع کی تحریر  لکھ  دے  تو  شرعاًاس سے خلع واقع نہ ہوگی۔

الخلع إزالة الملك ببدل  بلفظ الخلع۔(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق ،الباب الثاني في  الخلع،ج1ص488)

وأما ركنه فهو كما في البدائع إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة ولا يستحق العوض بدون القبول۔(رد المحتار،باب الخلع ج1ص441)

وإن لم تقم عليه بينة بالكتاب ولم يقر أنه كتابه ولكنه وصف الأمر على وجهه، فإنه لا يلزمه الطلاق في القضاء ولا فيما بينه وبين الله تعالى، وكذلك كل كتاب لا يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع به الطلاق إذا لم يقر أنه كتابه.(المحيط البرهاني،باب الخلع،ج3ص429)

 ( فإن اختلفا في وجود الشرط ) أي ثبوته ليعم العدمي ( فالقول له مع اليمين ) لإنكاره الطلاق۔(الدر المختار،ج3ص356)


فتویٰ نمبر : 6230/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں