بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

کمپنی سے ملنے والی رقم کا حکم


سوال

:ميرے شوہر كا دوران ِ ملازمت جده ميں انتقال ہواکمپنی کی اصول ہیں کہ ملازمت چھوڑنے یا ملازمت کے دوران موت کی صورت میں کمپنی اپنی طرف سے کچھ رقم ادا کرتی ہے اگر ملازم نے ملازمت چھوڑی تو اس کو دی جاتی ہے اور اگر فوت ہوگیا تو کمپنی کے سامنے مرحوم نے جن ورثا کو نامزد کیا ہو ان کو وہ رقم ملتی ہے ۔میرے شوہر کی دوسری بیوی بھی ہے جس کی ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی بلکہ صرف نکاح ہواتھا کہ میرا شوہر فوت ہوا اور مرحوم نے صرف میرا ،تین بیٹوں اور اپنے والد کا نام نامزد کیا تھا مرحوم کے موت کے کچھ عرصہ بعد اس کے والد صاحب بھی فوت ہوگئے اور رقم کمپنی کے پاس ہے کمپنی کی پالیسی کے مطابق یہ رقم ملازم کا حق ہے اب مطلوبہ صورت ِ ھال میں رقم کی اصل مستحقین کی تعیین مطلوب ہے کیا رقم باوجود یہ کہ کمپنی ملازم کا حق مانتی ہے صرف نامزد شدہ لوگوں کا حق ہے یا اس میں میراث جاری ہوگا ؟

جواب

شریعت کی روشنی میں میراث کے احکام میت کے ترکہ میں  جاری ہوتے ہیں یعنی جو مال بوقت  وفات  میت کی ملکیت میں داخل ہو وہ ورثا میں بقدر حصص تقسیم کیا جائے گا  اور جو مال بوقت وفات اس کی ملکیت  میں نہ ہو بلکہ اس کی وفات کے بعد اس کے پسماندگان کو دیا جائے وہ ترکہ شمار نہ ہوگا ۔

                صورت مسؤلہ میں (1)اگر کمپنی کے پاس مرحوم کی ذاتی ملکیت جیسے تنخواہ وغیرہ پڑی ہو تو شرعاً یہ  رقم مرحوم کے  ترکہ میں شامل ہوکر اس میں میراث کے احکام جاری ہوں گے ۔

(2)اور اگر کمپنی اپنی طرف سے  کچھ رقم  مرحوم  کے پسماندگان  کو دیتی ہو،تو چونکہ اس رقم پر زندگی میں مرحوم کی ملکیت نہیں  تھی بلکہ اس کے مرنے کے بعد اس کے پسماندگان کو دی جاتی ہے اس لیے اس میں میراث  کے احکام جاری  نہ ہوں گے چاہے کمپنی اس کو حق کا نام  دے یا تبرع واحسان سمجھے ۔بہرحال یہ میراث نہیں اس لیے یہ رقم صرف کمپنی کی نامزد کردہ پسماندگان  کو ملے گی۔

قال رحمه الله ( يبدأ من تركة الميت بتجهيزه ) المراد من التركة ما تركه الميت خاليا عن تعلق حق الغير بعينه۔(البحر الرائق،كتاب الفرائض ج9/ص365)

العطایا لا یورث عنہ۔(شرح الاشباہ والنظائر ج2/495)

ولا يصح الصلح والاعتياض لأن الاعتياض عن حق الغير لا يصح ولا يجري فيه الإرث لأن الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث على ما قال عليه الصلاة والسلام من ترك مالا أو حقا فهو لورثته ولم يوجد شيء من ذلك فلا يورث ولا يجري فيه التداخل۔(بدائع الصنائع ،كتاب الحدود ،قبيل مقدار الواجب منها ج9/ص250)


فتویٰ نمبر : 4620/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں