بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

موبائل پر غیر ضروری تصاویر نکالنے کا حکم


سوال

 آج کل موبائل پر غیر ضروری تصاویر کھینچنے کا  ایک ٹرینڈ چل پڑا ہے ، شرعا ایسی تصاویر کھینچنے کا کیا حکم ہے جس کی نہ ضرورت ہو اور نہ حاجت؟

جواب

سکرین پر ظاہر ہونے والی ڈیجیٹل تصویر بھی تصویر ہی کی ایک جدید قسم ہے یہی وجہ ہے کہ عرف میں بھی اس کو تصویر کہا جاتا ہے لہذااس پر بھی تصویر کا حکم لاگو ہوگا ۔البتہ ضرورت کے پیش نظر قومی شناختی کارڈ،پاسپورٹ یا نوکری وغیرہ کیلئے تصویر کھینچوانے کی گنجائش ہے، لیکن محض نفسانی خواہشات کے لیے ڈیجیٹل کیمرے سے تصویر کھینچنے کی اجازت نہیں ہے  لہذا موبائل پر آج کل جو غیر ضروری تصاویر نکالنے کا ایک رواج چل پڑا ہے  شرعاً اس کی کوئی گنجائش نہیں اس سے احتراز ضروری ہے۔ اور ویڈیو زبنانے کا بھی یہی حکم ہے۔

وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير صورة الحيوان فإنه قال قال أصحابنا وغيرهم من العلماء تصوير صور الحيوان حرام شديد التحريم وهو من الكبائر لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث يعني مثل ما في الصحيحين عنه أشد الناس عذابا يوم القيامة المصورون يقال لهم أحيوا ما خلقتم ثم قال وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره فصنعته حرام على كل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم ودينار وفلس وإناء وحائط وغيرها، فينبغي أن يكون حراما لا مكروها إن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل لتواتره ۔(البحر الرائق ،باب ما يفسد الصلوة وما يكره فيها ،ج2ص29)

الضرورات تبيح المحظورات۔(الأشباه والنظائر لابن نجيم ص72)


فتویٰ نمبر : 4625/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں