بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
دادا کے وعدہ کرنے سےاس کے میراث میں استحقاق
سوال
میرے دادا نے میرے والد کی وفات کے بعد مجھے کہا کہ میں آپ کو آپ کے والد مرحوم کا حصہ دونگا،اور میرے چچاؤں کو سب گھر والوں کے موجودگی میں کہا کہ میرے پوتے کو اس کے والد مرحوم کا پورا حصہ دو گے۔اب دریافت طلب یہ ہے کہ دادا کے ان اقوال سے دادا کے میراث میں میرا حصہ بنتا ہے یا نہیں اگر بنتا ہے تو میرا شرعی حصہ کتنا بنے گا ۔جواب عنایت فرما کر شکرگزار فرمائیں۔
جواب
شرعی نقطہ نظر سے کسی کو اپنی زندگی میں کوئی چیز دینے کا وعدہ کرنا یا کسی کو کسی شخص کے بارے میں یہ حکم دینا کہ اسے یہ چیز دے دو ، یہ وصیت میں شامل نہیں۔
صورت مسئولہ میں مرحوم کا اپنے پوتے کو یہ کہنا کہ"میں آپ کو آپ کے والد مرحوم کا حصہ دونگا" وصیت نہیں بلکہ وعدہ ہے چنانچہ اگر دادا نے اپنی زندگی میں پوتے کو اپنے مال میں سے کچھ دیا ہو تو درست ہے ورنہ دادا کی میراث میں نرینہ اولاد کے ہوتے ہوئے پوتے کا شرعاً کوئی حصہ نہیں بنتا۔
ایسے ہی مرحوم کا اپنے بیٹوں کو یہ کہنا کہ"میرے پوتے کو اس کے والد مرحوم کا پوراحصہ دوگے"یہ بھی وصیت نہیں ، کیونکہ اس شخص کی میراث میں پہلے سے فوت شدہ بیٹے کا شرعاً کوئی حصہ نہیں بنتا لہذا دادا کے اس قول کا کوئی اعتبار نہیں ،تاہم اگر ورثاء اپنی جانب سےاپنے اپنے حصے میں سے اپنے بھتیجے کو کچھ حصہ دینا چاہیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔
فالوصية اسم لما أوجبه الموصي في ماله بعد موته۔ (بدائع الصنائع،كتاب الوصايا،فصل واما بيان معني الوصية،ج7ص333)
فالأقرب يحجب الأبعد كالابن يحجب أولاد الابن۔ (الفتاوى الهندية ، باب الثالث فى العصبات ، ج6، ص451)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں