بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

تلاوت قرآن پاک کےسلسلے میں لہجات اور قانون نغمہ سے مدد لینا


سوال

:موجودہ دور میں قرآن مجید کی تلاوت کے سلسلےمیں مختلف لہجات سکھائے جاتے ہیں،جن کے نام صباء، نہاوند ، سیگاہ وغیرہ بتائے جاتے ہیں،قرآن وحدیث کی روشنی میں ان کا اثبات ،حکم ،سیکھنااورسکھانا کیسا ہےاور علم تجوید کے قواعد کی رو سے کیا حکم ہے،نیز موجودہ دور میں قرّاء حضرات جس طریقے سے مشق کرتے ہیں کہ سانس توڑے بغیر لمبی قراءت کرتے ہیں،جس میں کافی تکلّف وتصنّع سے کام لیناپڑتا ہے ،فقہی اور تجویدی اعتبار سے اس کا کیا حکم ہے ؟

جواب

 قرآن مجید کو خوش آوازی سے پڑھنے کے استحباب میں علمائے کرام کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ،البتہ قرآن مجید کو ترنّم سے پڑھنے اور آواز کو خوبصورت بنانے کےلیے مختلف لہجوں اور قانون نغمہ سے مدد لینے  کے بارے میں فقہاے کرام کی آراء مختلف ہیں ،چنانچہ 1۔امام مالک ،سعید ابن المسیب ، حسن بصری ، ابن سیرین  وغیرہ نےاس کی ممانعت کا قول کیا ہےاور اس کی بنیادی وجہ یہ بتلائی ہے کہ:قرآن مجید کو ترنّم سے پڑھنے اور آواز کو خوبصورت بنانے کے لیے مختلف لہجوں سے مدد لینا نہ تو دل میں خشوع و خضوع پیدا کرتا ہے اور نہ ہی قرآن مجید سے نصیحت حاصل کرنے پر برانگیخیتہ کرتا ہے ،نیز اس میں موسیقی اور گانوں کے ساتھ مشابہت بھی لازم آتی ہے ،حالانکہ قرآن مجید کو عرب کے لہجوں اور ان کی طرز میں پڑھنے کی ترغیب دی گئی ہے اور گاناگانےوالے گلوکاروں اورنوحہ گروں کےلہجوں میں قرآن مجیدپڑھنےسےمنع کیاگیاہے،اسی طرح آوازمیں ترنم پیداکرنےکی وجہ سےتلفظ کےاحکام اورتجویدوقراءت کےقواعد بھی خلل اندازہوتےہیں۔

2-جبکہ امام ابوحنیفہ اوران کےاصحاب ،امام شافعی،ابن مبارک وغیرہ الحان اورترنم کےساتھ قرآن پاک کی تلاوت کے جوازقائل ہیں،کیونکہ آوازکی خوبصورتی کادارومداراسی پرہےکہ اس میں قوانین نغمہ کی رعایت رکھی جائے،اوراس سےآوازکاحسن دوبالاہوجاتاہے،اگرانسان قوانین نغمہ کی رعایت نہ رکھےتواس سےآوازکاحسن متاثرہوتاہے۔تاہم اس میں مندرجہ ذیل شرائط کی رعایت ضروری ہے:

1-اس سےتلفظ کی ادائیگی اورتجویدکےقواعدمتاثرنہ ہوں،اگرآوازمیں ترنم پیداکرنےکی وجہ سےتلفظ کےاحکام   اورتجویدوقراءت کے قواعدخلل اندازہوں،اورترنم کےساتھ پڑھتےہوئےکھینچ کرپڑھنےسےکسی حرف کوزیادہ بڑھادیاجائےیاکسی حرف کوگھٹادیاجائے(یعنی لحن جلی کاارتکاب کیاجائے)تواس طرح ترنم کےساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرناحرام ہے۔

2-قرآن مجیدکوترنم سےپڑھتےہوئےایسالب ولہجہ اختیارنہ کیاجائے،جوقرآن مجیدکی عظمت ووقاراورخشوع وخضوع کےمنافی ہو،کیونکہ بعض لہجےایسےہوتےہیں جوقرآن مجیدکےشایان شان نہیں ہوتے۔مثال کےطورپروہ لہجہ جس میں راگ ہو،ایسالہجہ نہ دل میں  خشوع وخضوع پیدا کرتا ہے اور نہ ہی قرآن مجید سے نصیحت حاصل کرنے پر برانگیختہ کرتا ہے۔

3۔لہجات کی پیروی میں غیرضروری تکلّف اور مبالغہ سے پرہیز کیا جائےاور خواہ مخوہ تکلّف وتصنّع  کے ذریعے جائز حدود سے تجاوز نہ کیا جائے،بلکہ تلاوت قرآن کو بے جا تکلّفات سے پاک رکھا  جائے۔

4۔قرآن مجید کے معانی ومفاہیم میں غور وخوض کی بجائےساری توجّہ لہجات پر مرکوز  نہ رہے۔

لہٰذاصورت مسئولہ میں مذکورہ شرائط کی پاسداری کرتے ہوئے اگر خوش الحانی کی رعایت اس قدر کی جائے کہ اس میں لحن جلی کا ارتکاب نہ ہو اور اس کو  پیسے کمانے کا ذریعہ نہ بنایا جائے،بلکہ لوگوں کے دلوں میں خشوع وخضوع اور رقّت طاری ہونے کا سبب بنے ، توقرآن مجید کو ترنّم سے پڑھنے اور آواز کو خوبصورت بنانے کےلیے قانون ِنغمہ سے مدد لینے اور مختلف لہجات سیکھنے ،سکھانے کی گنجائش ہے۔

أَجْمَعَ الْعُلَمَاءُ عَلَى اسْتِحْبَابِ تَحْسِينِ الصَّوْتِ بِالْقِرَاءَةِ وَتَرْتِيلِهَاوَاخْتَلَفُوا فِي الْقِرَاءَةِ بِالْأَلْحَانِ فَكَرِهَهَا مَالِكٌ وَالْجُمْهُورُ لِخُرُوجِهَا عَمَّا جاء القرآن له من الخشوع والتفهم وأبحاها أَبُو حَنِيفَةَ وَجَمَاعَةٌ مِنَ السَّلَفِ لِلْأَحَادِيثِ وَلِأَنَّ ذَلِكَ سَبَبٌ لِلرِّقَّةِ وَإِثَارَةِ الْخَشْيَةِ وَإِقْبَالِ النُّفُوسِ عَلَى اسْتِمَاعِهِ قُلْتُ قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي مَوْضِعٍ أَكْرَهُ الْقِرَاءَةَ بِالْأَلْحَانِ وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ لَا أَكْرَهُهَا قَالَ أَصْحَابُنَا لَيْسَ لَهُ فِيهَا خِلَافٌ وَإِنَّمَا هُوَ اخْتِلَافُ حَالَيْنِ فَحَيْثُ كَرِهَهَا أَرَادَ إِذَا مَطَّطَ وَأَخْرَجَ الْكَلَامَ عَنْ مَوْضِعِهِ بِزِيَادَةٍ أَوْ نَقْصٍ أَوْ مَدٍّ غَيْرِ مَمْدُودٍ وَإِدْغَامِ ما لا يجوز إدغامه وَنَحْوُ ذَلِكَ وَحَيْثُ أَبَاحَهَا أَرَادَ إِذَا لَمْ يَكُنْ فِيهَا تَغَيُّرٌ لِمَوْضُوعِ الْكَلَامِ.(شرح النووي على الصحيح لمسلم، كتاب فضائل القرآن، باب استحباب تحسين الصوت، ج :3ص :111مكتبة البشرى)

قال ابن الشحنة في شرح الوهبانية والمؤلف بالغ في النكير على إقرارهم على هذا في زمانه وعلى القراءة بالتمطيط ومنع جوازها وجواز سماعها وقال بوجوب إنكارها وأطنب في إنكارها وذلك فيما إذا مطط تمطيطا يؤدي إلى زيادة حرف ونحو ذلك، أما القراءة بالألحان إذا سلمت من ذلك فإنها مندوب إليها.(منحة الخالق على هامش بحرالرائق، كتاب الشركة، ج:5ص:304 دارالكتب العلمية)

إن كانت الألحان لا تغير الكلمة عن وصفها، ولا يؤدي إلى تطويل الحروف التي حصل التغني لها، حتى لا يصير الحرف حرفين، بل... تحسين الصوت ويزيّن القراءة لا يوجب ذلك فساد الصلاة، وذلك مستحب عندنا في الصلاة، وخارج الصلاة.(المحيط البرهاني، كتاب الصلوة، الفصل السادس عشر في التغني والألحان، ج:1ص:385 المكتبة الغفارية)

وَالَّذِي يَتَحَصَّلُ مِنَ الْأَدِلَّةِ أَنَّ حُسْنَ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ مَطْلُوبٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ حسنا فليحسنه مَا اسْتَطَاعَ وَمِنْ جُمْلَةِ تَحْسِينِهِ أَنْ يُرَاعِيَ فِيهِ قَوَانِينَ النَّغَمِ فَإِنَّ الْحَسَنَ الصَّوْتِ يَزْدَادُ حُسْنًا بِذَلِكَ وَإِنْ خَرَجَ عَنْهَا أَثَّرَ ذَلِكَ فِي حُسْنِهِ وَغَيْرُ الْحَسَنِ رُبَّمَا انْجَبَرَ بِمُرَاعَاتِهَا مَا لَمْ يَخْرُجْ عَنْ شَرْطِ الْأَدَاءِ الْمُعْتَبَرِ عِنْدَ أَهْلِ الْقِرَاءَاتِ فَإِنْ خَرَجَ عَنْهَا لَمْ يَفِ تَحْسِينُ الصَّوْتِ بِقُبْحِ الْأَدَاءِ وَلَعَلَّ هَذَا مُسْتَنَدُ مَنْ كَرِهَ الْقِرَاءَةَ بِالْأَنْغَامِ لِأَنَّ الْغَالِبَ عَلَى مَنْ رَاعَى الْأَنْغَامَ أَنْ لَا يُرَاعِيَ الْأَدَاءَ فَإِنْ وُجِدَ مَنْ يُرَاعِيهِمَا مَعًا فَلَا شَكَّ فِي أَنَّهُ أَرْجَحُ مِنْ غَيْرِهِ لِأَنَّهُ يَأْتِي بِالْمَطْلُوبِ مِنْ تَحْسِينِ الصَّوْتِ وَيَجْتَنِبُ الْمَمْنُوعَ مِنْ حُرْمَةِ الْأَدَاءِ. (الفتح الباري، كتاب فضائل القرآن، باب من لم يتغن بالقرآن، ج:2ص:89 مكتبة دارالفكر)


فتویٰ نمبر : 4618/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں