بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

امام مسجد کوبطور عوض دی گئی زمین واپس لینا


سوال

ہمارے دادا مرحوم اور چند رشتہ داروں نے مل کر امام مسجد کوان کی امامت اور مسجد کی خدمت کے عوض کچھ زمین دی تھی ، اب امام صاحب کے انتقال کے بعد رشتہ داروں نے امام صاحب کی اولاد سے اپنی اپنی زمینیں واپس لے لی ہیں ۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا میں بھی اپنے رشتہ داروں کی طرح امام صاحب کی اولاد سے اپنے دادا کی دی ہوئی زمین واپس لے سکتا ہوں یا نہیں اور یہ زمین لے کر اپنے ذاتی استعمال یا کسی دوسری مسجد کی تعمیر میں اس کی رقم خرچ کر سکتا ہوں یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ  بعض علاقوں میں ائمہ حضرات کو جو زمین دی جاتی ہے اس کی متعدد صورتیں ہو سکتی ہیں:

(1)اگر پیش امام کو اس کی امامت و خدمت کے عوض  بطور اجرت زمین دی جائے تو ایسی صورت میں یہ زمین امام ہی کی ملکیت ہوجائے گی  اور اجرت دینے والوں یا ان کے ورثاء  کا اس میں کوئی استحقاق باقی نہیں رہے گا۔

 (2)اگر امام مسجد کی اجرت متعین ہو اور اس کے علاوہ کوئی زمین بلاعوض ملکیتاً دی جائے  تو یہ ہبہ ہوگا۔ ہبہ   میں اگر واہب(ہبہ کرنے والا) یا موہوب لہ(جس کو ہبہ کیا گیا) میں سے کوئی فوت ہو جائے یا موہوبہ چیز  تبدیل ہو جائے یا موہوبہ چیز میں ایسی زیادتی ہو جائے جو اس کے ساتھ متصل ہو یا موہوبہ چیز  موہوب لہ کی ملکیت سے نکل جائے تو ان صورتوں میں ہبہ   سے رجوع  کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

(3)اگرپیش امام کو اس کے منصب امامت کی وجہ سے کوئی زمین صرف عارضی استعمال کے لئے  دی جائےتاکہ وہ اسے کاشت کر کے اپنے اخراجات  اس کی پیداوار اور آمدن سے پورا کر سکے تو ایسی صورت میں  یہ زمین ، زمین دینے والے کی ہی ملکیت  رہے گی، امام کی ملکیت اس میں ثابت نہ ہوگی۔

صورت مسئولہ میں اگر امام کو یہ زمین امامت کے عوض بطور اجرت دی گئی ہو جیسا کہ سوال میں مذکور ہے تو ایسی صورت میں یہ زمین امام ہی کی ملکیت ہوگی لہذا امام سے یا اس کی اولاد سے یہ زمین واپس لینا جائز نہیں۔

عن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال مثل الذي يعطي العطية ثم يرجع فيها كالكلب أكل حتى إذا شبع قاء ثم عاد فرجع في قيئه۔  (سنن الترمذی،الرقم:2131)

ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها۔ (الفتاوى الهندية،كتاب الإجارة،الباب الثاني،ج4،ص413)

وأما الألفاظ التي تقع بها الهبة فأنواع ثلاثة ۔۔۔ أما الأول فكقوله وهبت هذا الشيء لك ۔۔۔ وأما الثاني فكقوله كسوتك هذا الثوب أو أعمرتك هذه الدار فهو هبة كذا لو قال هذه الدار لك عمري أو عمرك أو حياتي أو حياتك فإذا مت فهو رد علي جازت الهبة وبطل الشرط۔  (الفتاوى الهندية،كتاب اهبة،ج4،ص375)

وأما العوارض المانعة من الرجوع فأنواع منها هلاك الموهوب ۔۔۔ ومنها خروج الموهوب من ملك الواهب بأي سبب كان من البيع والهبة والموت ونحوها ۔۔۔ ومنها موت الواهب ۔۔۔ ومنها الزيادة في الموهوب زيادة متصلة ۔۔۔ ومنها العوض ۔۔۔ ومنها ما هو في معنى العوض وهو ثلاثة أنواع الأول صلة الرحم المحرم فلا رجوع في الهبة لذي رحم محرم من الواهب وهذا عندنا ۔۔۔ الثاني الزوجية فلا يرجع كل واحد من الزوجين ۔۔۔ الثالث التوارث فلا رجوع في الهبة من الفقير بعد قبضها لأن الهبة من الفقير صدقة لأنه يطلب بها الثواب۔  (بدائع الصنائع،فصل واما حكم الهبة،ج6،ص128،129،130)


فتویٰ نمبر : 4614/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں