بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

باغبانان میرامیں نماز جمعہ


سوال

 ہمارا علاقہ "باغبانا ن میرا "کے نام سے جانا جاتا ہے ،اس کی صورت حال یہ ہے کہ اس میں افرادی تعداد چار ہزار سے زیادہ ہے ، دس سے زیادہ خشت بھٹیاں ہیں، تین عدد پرائمری سکول جبکہ دو عدد مڈل سکول ہیں، پانچ عدد کلینک ہیں، ایک ڈائری فارم ہے، چھ سے زیادہ پرچون دکانیں ہیں، ایک پولیس چوکی ہے، پختہ سڑکیں اور بجلی کی انتظامات موجود ہیں، اور اس علاقے کے آخری حدود باغبانان بازار سے جا ملتے ہیں۔  مذکورہ علاقہ میں باغبانان بازار سے 2.5 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع مدرسہ"جامعہ فاروقیہ باغبانان" میں ہم جمعہ کی نماز شروع کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ اس مدرسہ میں پنج وقتہ نماز باجماعت ادا نہیں ہوتی، اور اس مدرسہ کے قریب 300 میٹر کے فاصلے پر ایک جامع مسجد بھی  ہے، اب دریافت طلب امور یہ ہیں:

1ـ مذکورہ بالا صورت حال کو دیکھتے ہوئے اس علاقہ میں جمعہ کی نماز ادا کرنا جائز ہے  یا نہیں ؟

2ـ جمعہ کی نماز کے لیے اس مسجد میں پنج وقتہ نماز   باجماعت ادا کرنا ضروری ہے یا نہیں ؟

3ـ قریب جامع مسجد کے ہوتے ہوئے دوسری مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کر نا جائز  یا  نہیں ؟

جواب

 نماز جمعہ کے وجوب ادا کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ  جہاں نماز جمعہ ادا ہوتی ہے وہ شہر ہو ، یا توابع شہر میں سے ہو ، اور یا بڑا گاؤں ہو۔ بڑے گاؤں کی تعبیر فقہاے کرام نے اپنے اپنے وقت میں حالات کے مطابق مختلف عبارات سے کی ہے۔ موجودہ  دور میں جس گاؤں کی آبادی دو، ڈھائی ہزار افراد پر مشتمل ہو،اور روزمرہ کی ضروریات اس میں میسر ہوں وہ بڑا گاؤں شمار ہوگا،  اور توابع شہر   سے شہر کے مضافات میں واقع وہ آبادی مراد ہے جو مستقل گاؤں نہ ہو، بلکہ عرف میں شہر کے تابع شمار کیا جاتا ہو۔ چنانچہ جو آبادی شہر سے باہر ہو اور مستقل گاؤں کی حیثیت رکھتی  ہو اور عرف میں بھی وہ مستقل گاؤں شمار کیا جاتا ہو تو اگر وہ خود بڑا گاؤں نہ ہو تو اس میں جمعہ جائز نہیں۔

صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ علاقہ (باغبانان میرا) میں مذکورہ شرائط پائی جاتی ہوں اور ایک ہی گاؤں کی افرادی تعداد 4000  تک پہنچتی ہو تو اس گاؤں میں نماز جمعہ ادا کرنا جائز ہے ۔

2ـ نماز جمعہ کے انعقاد کے لیے مسجد میں پنجگانہ نماز کی باجماعت پابندی  ضروری نہیں ، اس لیے جس گاؤں میں جمعہ کے وجوب کی شرائط پائی جائیں تو اس گاؤں کی ایسی مسجد میں بھی نماز جمعہ ادا کرنا جائز ہے جس میں پنجگانہ  نماز باجماعت ادا نہ ہوتی ہو۔

3ـ جب کسی جگہ میں نماز جمعہ کی ادائیگی کا جواز ثابت ہو جائے تو وہاں مختلف مقامات پر نماز جمعہ کی ادائیگی جائز ہے،  اس لیے ایک جامع مسجد کے ہو تے ہوئے دوسری مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرنا جائز ہے۔

وعبارة القهستاني تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق۔(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلوٰة، باب الجمعة، ج:3،ص:6)

(ويشترط لصحتها) سبعة أشياء: الاول: (المصر)---(أو فناؤه)---(و) الثاني: (السلطان)---- ( و ) الثالث ( وقت الظهر فتبطل ) الجمعة ( بخروجه ) مطلقا ----(و) الرابع: (الخطبة فيه) فلو خطب قبله وصلى فيه لم تصح (و) الخامس: (كونها قبلها)---- (و) السادس: (الجماعة) وأقلها ثلاثة رجال---- (و) السابع: (الاذن العام)(الدرالمختار مع تنوير الأبصار، كتاب الصلوٰة، باب الجمعة، ج:1،ص:109-112)

وتؤدى الجمعة في مصر واحد في مواضع كثيرة وهو قول أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى - وهو الأصح(الفتاوى الهندية، كتاب الصلوٰة، الباب السادس عشر في صلوٰة الجمعة،ج:1،ص: 205)


فتویٰ نمبر : 8772/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں