بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

قعدہ اولی یااخیرہ میں امام سے پہلےتشہد پورا کرنے والے مقتدی کاحکم


سوال

مدرک یا مسبوق اگرقعدہ اولی یا اخیرہ میں  امام سے پہلے تشہد پورا کرے،تو پھراس کو کیا پڑھنا چا ہیے؟

الحاصل مطلوبہ امور چار ہیں:

۱۔حکم مدرک قعدہ اولی میں ۲۔حکم مدر ک قعدہ ثانیہ میں۔۳حکم مسبوق قعدہ اولی میں۔ ۴حکم مسبوق قعدہ ثانیہ میں۔

ہرایک صورت کی وضاحت فرما کر مشکور فرمائیں۔

جواب

         واضح رہے کہ اگر مقتدی (مدرک ہو یا مسبوق)  قعدہ اولی میں امام سے پہلے تشہد مکمل کرلے توخاموش رہ کرامام کےاٹھنے کا انتظار کرے گا، درود شریف  یا دعائیں نہیں پڑھے گا۔ اور قعدہ اخیرہ میں  اگر مقتدی نے امام سے پہلے تشہد پڑھ لیا تو اس میں یہ تفصیل ہے، کہ اگر مقتدی مدرک (شروع سے امام کے ساتھ شریک ) ہے، تو وہ تشہد درود اور دعا کے بعد  مزید  درود شریف یا وہ دعا ئیں پڑ ھ سکتا ہے ، جو قرآن وحدیث میں منقول ہیں۔ اور اگر مقتدی مسبوق ہو یعنی ( جس کی کچھ  رکعتیں نکل گئی ہوں) تو اس  کے لئے  حکم   یہ ہے،  کہ وہ قعدہ اخیرہ میں  التحیات اس طرح ٹھہر ٹھہر کر  پڑ ھے گا،  کہ امام کے سلام  پھیرنے تک  ختم  کر لے، اور اگر اس نے اما م سے پہلے التحیات مکمل کر لی ہو تو پھر خاموش رہے گا یا ایک قول کے مطابق  تشہد(اشھد ان لا اله الا الله)کو آہستہ آہستہ دہرانا بھی جائز  ہے۔

 

  المقتدي إذا فرغ من التشهد في القعدة الاخيرة قبل إلامام واشتغل بالصلوات والدعوات فلما فرغ الإمام وهوقد قرأالدعوات لا يكره۔(خلاصةالفتاوي،كتاب الصلوۃ، ج 1 /ص160)

ومنها أن المسبوق ببعض الركعات يتابع الإمام في التشهد الأخير وإذا أتم التشهد لا يشتغل بما بعده من الدعوات ثم ماذا يفعل تكلموا فيه وعن ابن شجاع أنه يكرر التشهد أي قوله أشهد أن لا إله إلا الله وهو المختار كذا في الغياثية والصحيح أن المسبوق يترسل في التشهد حتى يفرغ عند سلام الإمام كذا في الوجيز للكردري وفتاوى قاضي خان وهكذا في الخلاصة وفتح القدير۔(الفتاوی الهنديۃ ،كتاب الصلاة،ج1/ص149)


فتویٰ نمبر : 8788/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں