بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

باکسنگ کے مقا بلے میں قتل کاحکم


سوال

موجودہ زمانہ میں باکسنگ مُکّا بازی، فری اسٹائل فائٹنگ کے جو مقابلے منعقد ہوتے ہیں۔بسا اوقات غلط مُکّا لگنےسے ایک فائیٹر مر جاتاہے۔ تو از روئے شرع یہ قتل کی کونسی قسم میں داخل ہے؟ فقھی حوالہ جات کیساتھ جواب عنایت فرمائیں۔ واجرکم علی اللہ

جواب

واضح رہے کہ ہر وہ قتل جس میں کسی ایسی چیز کا استعمال ہو جائے جو نہ اسلحہ ہو اور نہ ہی اسلحہ کے قائم مقام ہو ، تو چاہے اس میں قاتل کا ارادہ قتل کا ہو یا صرف مارنے کا ہو دونوں صورتوں میں یہ قتل شبہ عمد کہلاتا ہے۔ صورت مسئولہ میں جب فائیٹر یا باکسر مخالف کو ہاتھ یا لات سے مارتا ہے، اور مکا یا لات غلط جگہ لگنے کی وجہ سے اس کی موت واقع ہوتی ہے، تو چونکہ ہاتھ اور پاؤں نہ اسلحہ ہے اور نہ ہی اسلحہ کے قائم مقام ہے، اس لیے یہ قتل شبہ عمد ہے۔

"وشبه العمد عند أبي حنيفة - رَحِمَهُ اللَّهُ -: أن يتعمد الضرب بما ليس بسلاح ولا ما أجري مجرى السلاح" (الهداية، کتاب الجنایات، ج:8، ص:7)

"إذا ضرب رجل آخر بيده أو بنعله أو بشيء لا يقصد بمثله القتل فمات من ذلك، قال أسد بن عمر : هو شبه العمد". ( الفتاوى التتارخانية، كتاب الجنايات، الفصل الأول: أنواع الجنايات وأحكامها، ج:19، ص: 12)

"وإن صدر بغير سلاح، فأما إن كان معه قصد التأديب أو الضرب أم لا، فإن كان فهو شبيه العمد" (البناية في شرح الهداية، كتاب الجنايات،ج:12، ص:84)


فتویٰ نمبر : 4634/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں