بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

نشہ آور اشیاء کی ترسیل پر مزدوری لینا


سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص ایک جگہ سے  دوسری جگہ چرس اور افیون  منتقل کر کے  اس پر مزدوری لیتا ہے کیا شرعاً اس پر مزدوری لینا جائز ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ ہیروئن ،افیون ،چرس اور مارفین وغیرہ نشہ آور اشیاء سے انسان کی صحت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے اس وجہ سے ان اشیا کی ذخیرہ اندوزی ، ترسیل یا کاروبار میں کسی درجہ میں معاون کا کردار ادا کرنا یا  آلہ کار بننا انسانی معاشرہ کو تباہ کرنے کے مترادف ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ۔

صورتِ مسؤلہ کے مطابق اگر ایک شخص ایک جگہ سے دوسری جگہ چرس اور افیون منتقل کرکے اس پر مزدوری اور کرایہ لیتا ہے تو یہ گناہ کے کاموں میں تعاون ہے اور گناہ کے کاموں میں تعاون کرنا جائز نہیں ، لہذا افیون اور چرس کی ترسیل اور اس پر لینے والی مزدوری جائز نہیں۔

قال اللہ تعالی : وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ۔۔۔( المائدة/2)

عَنْ أَبِى عَلْقَمَةَ مَوْلاَهُمْ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْغَافِقِىِّ أَنَّهُمَا سَمِعَا ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لَعَنَ اللَّهُ الْخَمْرَ وَشَارِبَهَا وَسَاقِيَهَا وَبَائِعَهَا وَمُبْتَاعَهَا وَعَاصِرَهَا وَمُعْتَصِرَهَا وَحَامِلَهَا وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ۔(سنن أبي داؤد،كتاب الأشربة،باب العصير للخمر،ج2،ص162)

لا يجوز على الغناء والنوح والملاهي؛لأن المعصية لا يتصور استحقاقها بالعقد، فلا يجب عليه الأجر من غير أن يستحق عليه؛لأن المبادلة لا تكون إلا عند الاستحقاق، وإن أعطاه الأجر، وقبضه لا يحل له، ويجب غليه رده على صاحبه. (البحر الرائق، كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة، ج:8، ص:35)


فتویٰ نمبر : 2825/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں