بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

زندگی میں جائیداد فروخت کرنے کا حکم


سوال

18861ہمارے والد صاحب امیرگل مرحوم کی وفات کے وقت ہم چار بھائی ( ولایت خان ، مثل خان ،رئیس خان ،رسول خان) اور چار بہنیں (میر حسینہ ،تج بی بی ، مکیشئی ،گلاب جان )اور ایک بیوہ (معراجہ ) زندہ موجود تھے۔والد صاحب کی غیر منقولہ جائیداد کا انتقال ان سب ورثاء کے نام ہوا ،پھر میری بہنوں میں سے میر حسینہ اور تاج بی بی نے اپنے حصے کی تملیک منکہ مثل خان کو کرائی ۔واضح رہے کہ میں سالانہ کچھ غلہ حاصلات بھی ان بہنوں کو دیتا رہا ۔تقریبا بارہ سال تک ۔انتقال کے کاغذات کے مطابق یہ زمین عوض مبلغ ایک ہزار کے بدلے میں مجھے تملیک کرائی گئی ۔اب یہ دونوں فوت ہوگئی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان کی یہ تملیک درست ہے یا نہیں اور میں ان کے حصے زمین کا میں اکیلے مالک متصور ہوں گا یانہیں ۔شریعت کی روشنی میں جواب دیں ۔

جواب

اسلام علیکم ، تفصیل واضح نہ ہونے کی وجہ سے جواب دینے سے معذرت خواہ ہیں، شکریہ


فتویٰ نمبر :

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں