بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مسجد شہیدہونے سے صدقہ جاریہ کا انقطاع


سوال

اگر کوئی شخص مسجد تعمیر کرے،پھر کسی وجہ سےشہیدکردی جائےتو تعمیر کرنے والے کوثواب صدقہ جاریہ کے طور پر ملتا رہےگایا منقطع ہوجائےگا؟

جواب

           واضح رہے کہ جس جگہ مسجد بن جائےوہ تاقیامت مسجد ہی رہتی ہے، اگرچہ وہ مسجد ویران ہوجائے،تب بھی قیامت  تک مسجد ہی رہے گی۔

            صورت مسئولہ کے مطابق مسجد تعمیر کرنے کے بعد اگر کسی  وجہ سے شہید کر دی گئ ہوتو تعمیر کرنے والےکاثواب اس کی نیت پر موقوف ہوگا ، چونکہ اس نے تعمیر میں نیت دائمی مسجد بنانے کے لیے کی تھی اس لیے اس کی نیت کے مطابق اس کو ثواب ملتا رہے گا، چونکہ ثواب کا تعلق نیت سے ہوتا ہےاس لیےتعمیر اگر چہ باقی نہیں رہی لیکن نیت کے مطابق وہ ثواب کا مستحق ہوگا۔

 

عن علقمة بن وقاص الليثي قال: سمعت عمر بن الخطاب يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌إنما ‌الأعمال ‌بالنيات، وإنما لكل امرئ ما نوى، فمن كانت هجرته إلى الله ورسوله فهجرته إلى الله ورسوله، ومن كانت هجرته لدنيا يصيبها، أو امرأة يتزوجها، فهجرته إلى ما هاجر إليه»  (سنن أبي داود، كتاب الطلاق، باب فيما عني به الطلاق والنيات، ج:2، ص:262)

ولو خرب ما حول المسجدواستغني عنه يبقى مسجدا عند أبي يوسف لأنه إسقاط لملكه فلا يعود إلى ملكه كالإعتاق.(تبيين الحقائق، كتاب الوقف،فصل من بنى مسجدا لم يزل ملكه عنه، ج:3، ص:330)

قال ابو يوسف هو مسجد أبدا إلى قيام الساعة لا يعود ميراثا ولا يجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر سواء كانوا يصلون فيه أو لا وهو الفتوى۔ (البحرالرائق، باب الوقف، فصل في أحكام المسجد، ج:5، ص: 272)


فتویٰ نمبر : 5020/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں