بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

متعددسجدہ تلاوت کےلیےایک نیت کرنےکاحکم


سوال

کیامتعددسجدہ تلاوت کےلیےایک نیت کافی ہے؟

جواب

             واضح رہے کہ نیت دل کےارادےکانام ہے،عبادات کے لیےدل سےنیت کرنےکےبعدزبان سےنیت پرتلفظ کرناضروری نہیں،تاہم دل کےارادےمیں مزیداستحکام کی خاطرزبان سےبولناایک مستحسن عمل ہے۔

           صورت مسئولہ کےمطابق متعددسجدہ تلاوت میں سےہرایک سجدہ کی ادائیگی کےلیےدل میں نیت ضروری ہے۔تاہم زبان سےبھی نیت پرتلفظ کیاجائےتویہ ایک مستحسن عمل ہے۔

 

ثم إذا أراد السجود ينويها بقلبه ويقول بلسانه: أسجد لله تعالى سجدة التلاوة الله أكبر، كذا في السراج الوهاج.(الفتاوی الھندیہ،کتاب الصلاۃ،الباب عشرفی سجودالتلاوۃ،ج1،ص159)

وشرائط هذه السجدة شرائط الصلاة إلا التحريمة.(الفتاوی الھندیہ،کتاب الصلاۃ،الباب عشرفی سجودالتلاوۃ،ج1،ص159)

"وشرط لصحتها" أن تكون "شرائط الصلاة" موجودة في الساجد الطهارة من الحدث والخبث وستر العورة واستقبال القبلة وتحريها عند الاشتباه والنية "إلا التحريمة"(مراقی الفلاح،کتاب الصلاۃ،باب سجودالتلاوۃ،ص291)


فتویٰ نمبر : 8798/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں