بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

ترکہ سے مکان خرید کر تمام ورثا میں برابر تقسیم کرنا


سوال

ہم دو بھائی ایک بہن ہیں جب میرے والد صاحب 1994ء میں دبئی سے پاکستان آئےجبکہ ہماری والدہ 1993ء میں فوت ہوئی تھی تو والدہ کا کچھ ترکہ اور باقی رقم میں نے مکان (7مرلہ)خریدنے کے لیے والد صاحب کو دے دی ۔1994ء میں والد صاحب نے 7 مرلہ مکان خرید کر پونے دو مرلے میرے نام ،پونے دو مرلےدوسرے بھائی کے نام ،پونے دو مرلے بہن کے نام اور پونے دو مرلے والد صاحب نے اپنے نام انتقال کیا ۔پھر 1999ء میں والد صاحب نے دوسری شادی کرلی جس سے 2000ء میں ایک بیٹی ،2001ء میں ایک بیٹا اور 2015ء میں ایک اور بیٹی پیدا ہوئی ،اور اسی سال والد صاحب فوت ہوئے۔اب 2021ء میں یہ مکان فروخت کرنا ہے اب سوال یہ ہے کہ والدکے ترکہ میں پونے دو مرلہ مکان تقسیم کیا جائے گا یا پورے7مرلہ مکان میں ترکہ کے احکام جاری ہوں گے۔نیز اگر والد صاحب کا حصہ پونے دو مرلہ دوسری ماں اور بہن ،بھائی کو دے دیں تو شرعاً جائز ہے یا نہیں ؟

(2) میری بہن جس کے نام پونے دو مرلہ زمین ہے کیا وہ فروخت کی رقم سے اپنے لیے زمین خرید سکتی ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ جو شخص فوت ہوجائے اور اس کے ورثا میں  سے کوئی زندہ ہو تو شرعی اصول کی رو سے اس کی متروکہ جائیداد وغیرہ ورثا میں تقسیم ہوگی ،اگر سب ورثا باہمی رضامندی سے ترکہ میں  تصرف کرکے کوئی چیز خریدیں تو شرعاً خریدی ہوئی چیز میں  بھی سب ورثا  اپنے اپنے حصہ کے بقدر  شریک ہوں گے۔ تاہم اگر ہر ایک وارث کو میراث میں ملنے والا حصہ  معلوم ہو اور پھر سب ورثا    ہر ایک کو برابر کا  حصہ دینے پر راضی ہو ں توباہم مصالحت سے یہ بھی جائز ہے ۔

                صورت ِ مسؤلہ میں(1) جس وقت سائل  کی والدہ فوت ہوئی تو اس وقت جو ورثا   زندہ موجود تھے وہی مرحومہ کے وارث شمار ہوتے ہیں لہذا اگر ترکہ تقسیم کرنے سے پہلے ورثا  نے باہمی رضامندی سے  متروکہ  مال وغیرہ سے  مکان خریدا  لیا ہو  تو مکان میں  سب ورثا  اپنے اپنے حصہ میراث کے بقدر حصہ دار تھے تاہم اگر  ورثا نے باہم رضامندی سےہر ایک وارث کو مکان میں برابر  حصہ دے کر  مصالحت کی ہو اور کاغذی انتقال میں بھی سب ورثا کابرابر  حصہ لکھ دیا گیاہو تو شرعاًاس مکان میں ورثا اسی  تقسیم  کے تحت  حصہ دار ہونگے چنانچہ سوال میں ذکر کردہ صورت کے مطابق ہر ایک وارث کو   پونے دو مرلہ مکان  پر ملکیت حاصل ہے ۔ بعد میں جب  سائل کا والد فوت ہوا  تو مکان میں باپ کے حصے (پونے دو مرلہ )میں میراث کے احکا م جاری ہوں گے چنانچہ پہلی اور دوسری بیوی کی  اولاد  اور دوسری بیوی حصصِ شرعیہ کے مطابق  میراث کے حقدار ہیں ۔

(2)سوال میں ذکر کردہ صورتحال اگر حقیقت پر مبنی ہوتومیت کی  پہلی بیوی کی بیٹی کے نام مکان کا جو حصہ ہے وہ اسی کی ملکیت شمار ہوگی لہذا فروخت کی صورت میں اس کی رقم پر بھی ملکیت اسی کی ہوگی۔ چاہےوہ اس رقم سے دوسری زمین خریدے  یا اپنے استعمال میں لائے یا کسی کو دے ۔

ولوكان الميراث بين أربعة نفر وارثين صغيرين ووارثين كبيرين ،وله وصي وموصى له  فاجتمعوا واصطلحوا  على أن  قوموا ذالك قيمة عدل فيما  بينهم ثم قسموا لأحد الوارثين الكبيرين  حلىّ بعينه،ومتاع ،ورقيق،وللوارثين الصغيرين  ،وللموصى له مثل ذالك فهو جائز ۔(الفتاوى التاتارخانية ،كتاب الصلح ،الفصل التاسع ،ج14ص315)

لايمنع  شخص من التصرف في ملكه۔(شرح المجلة لسليم رستم باز ،الكتاب العا شر في أنواع الشركات،المادة 1197،ص657)

كل واحد من الشركاءيصبح  بعد القسمة مالكا  لحصته بالاستقلال،ولا يبقى لأحد  علاقة في حصة الآخر ۔(أيضا،المادة 1162،ص643)


فتویٰ نمبر : 4105/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں