بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

موہوبہ زمین میں میراث کا حکم


سوال

ایک شخص کو اپنی ساس نے زمین بطور ِ ہبہ دے کر قبضہ بھی دیا تھا جس پر گواہ بھی موجود ہیں بعد میں ساس فوت ہوئی ۔اب سوال یہ ہے کہ شرعاً ہبہ میں دی گئی اس زمین میں ورثاء کا حق ہوگا یا نہیں ؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے کسی چیز کے مالک بننے کے متعدد اسباب ہیں ،جن میں سے ایک سبب ہبہ بھی ہے کہ بلا عوض کوئی شخص کسی کو اپنی مملوکہ چیز يا جائیدادکا مالک بنادےاور موہوب لہ  اس موہوبہ چیز پر قبضہ بھی کرلے تو موہوب لہ اس چیز کا مالک بن جاتا ہے اور واہب کے فوت ہونے سے شرعاً وہ زمین اس کے ترکہ میں شمار نہ ہوگی۔

                صورت مسؤلہ میں اگرسائل کا بیان حقیقت پر مبنی ہو اورساس نے واقعی ببقائے ہوش وحواس صحت  کی حالت  میں كوئی  زمین  داماد کو بطور ِہبہ دے کر قبضہ بھی دیا ہو تو شرعاً یہ زمین اس داماد ہی کی ملکیت شمار ہوگی،لہذا اس خاتون کی وفات کے بعد اس میں ورثاء کا کوئی حق نہ ہوگا۔

    تنعقد الہبۃ بالإيجاب والقبول ،وتتم بالقبض الكامل ،لأنهامن التبرعات والتبرع لا يتم إلا بالقبض ۔(شرح المجلةلسليم رستم باز المادة 837،ص462)


فتویٰ نمبر : 4609/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں