بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 26/10/2026 |
دارالافتاء
گائے کو حمل ٹھہرانےکے لیے انجکشن لگانا اور اس کی اجرت لینا
سوال
حمل کے لیے گائے کو انجکشن لگوانا جائز ہے یا نہیں ؟
(2)انجکشن کے بعد اگر حمل نہ ٹھہرے تو اس کے عوض مال لینا درست ہے یا نہیں ؟
جواب
حمل ٹھہرانےکے لیے گائے کو انجکشن لگانا ایک خلاف فطرت عمل ضرور ہے ،لیکن جانوروں کی افزائش نسل کے لیے اس طرح کا عمل کرنے پر شریعت میں کوئی پابندی نہیں ،لہذا اس طریق سے حاصل شدہ اولاد کی حلت میں کوئی شک نہیں اور نہ ہی دودھ وغیرہ میں کوئی شبہ ہے ۔چونکہ انجکشن لگوانا علاج کے زمرے میں آتا ہے اور علاج پر اجرت لینا جائز ہے اس لیے انجکشن لگانے پر اجرت لی جاسکتی ہے ۔
(1)صورت مسؤلہ میں گائے کوحمل ٹھہرانے کے لیےانجکشن لگوانے کی شرعاً گنجائش ہے ۔
(2) انجکشن کے بعد اگر حمل نہ ٹھہرے تو بھی اس کا عوض لینا درست ہے ،کیونکہ انجکشن اور اس کے لگوانے کا عوض لیا جاتا ہے نہ کہ حمل ٹھہرانے کاکیونکہ اس میں بندے کا کوئی اختیار نہیں ہوتا،لہذا اس اجرت کے لینے میں کوئی قباحت نہیں ۔
عن ابن عباس قال احتجم النبي {صلى الله عليه وسلم} وأعطى الحجام أجره ولو علم كراهية ً لم يعطه.(صحیح البخاری)
فيه أجرة القابلة على من استأجرها من زوجة وزوج ولو جاءت بلا استئجار ، - - قيل عليه وقيل عليها .(ردالمحتار علی الدرالمختار ج9ص93)
وإنما تثبت الحرمة بعارض نص مطلق أو خبر مروي فما لم يوجد شيء من الدلائل المحرمة فهي على الإباحة۔(مجمع الانھار فی شرح ملتقی الابحرج4 ص244)
وأما أبو حنیفۃ رحمہ اللّٰہ والکوفیون فقد ذہبوا إلی جواز بیع السرقین…وکل ما فیہ منفعۃ مباحۃ؛لأن مدار حلۃ البیع لیس علی طہارۃ المبیع عندہم وإنما مدارہ علی کونہ منتفعًا بہ في صورۃ ما،فکل ما فیہ منفعۃ مباحۃ جاز بیعہ،وجاز بیع السرقین مطلقًا في الصحیح عندنا لکونہ مالاً منتفعًا بہ لتقویۃ الأرض في الإنبات۔(ردالمحتار علی الدرالمختار ج9ص552)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 330
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 247
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 903
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 456
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 113
- کتاب النکاح | فتاوئ : 577
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 497
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 478
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 103
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 325
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1201
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 389
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں