بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

بالغ بیٹے کے تصرفات کا عوض باپ سے طلب کرنا


سوال

میرے بیٹے نے دبئی میں ایک شخص کے ساتھ لین دین میری اجازت کے بغیر کیا ہے ابھی وہ مجھ سے کہتا ہے کہ آپ کے بیٹے کے ساتھ میرے 29500درہم ہیں جبکہ میرا بیٹاعاقل بالغ آدمی ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ یہ رقوم ادا کرنا میری ذمہ داری بنتی ہے یا نہیں ؟

جواب

          شرعی نقطہ نظر سے عاقل بالغ شخص کے مالی تصرفات  اس کی ذات تک محدود ہوتے ہیں لہذا اگر کوئی بالغ شخص  کسی سے خرید وفروخت یا دیگر معاملات طے کرے تو شرعاً ان معاملات کی ذمہ داری اسی پر عائد ہوگی ۔

         صورت مسؤلہ میں اگر واقعی سائل کے بالغ بیٹے نے کسی شخص کے ساتھ لین دین کی ہو جس کی وجہ سے مقروض ہوا ہو تو شرعاً بیٹے پر واجب الادا ء  رقوم کی ادائیگی باپ پر لازم نہیں ۔تاہم اگر باپ نے اس کی طرف سے کفالت کی ہو یعنی اس کی ذمہ داری قبول کی ہو تو اس صورت میں باپ سے بھی مطالبہ کیا  جاسکتا ہے ۔

قال الله تعالى:وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى۔(الإسراء:16)

إذا بلغ الإنسان عاقلا ثبتت له أهلية أداء كاملة،وصار أهلا لتوجيه الخطاب إليه وتكليفه بجميع التكليفات الشرعية،وصحت منه جميع العقود  والتصرفات دون توقف على إجازة أحد إذا لم يكن  فيه سفه۔(الوجيز في اصول الفقه،ص98)

والكفالة وثيقة لجانب اللزوم لأنه يزداد به لمطلق المطالبة فإنه يطالب الكفيل بعد الكفالة مع بقاء الكفالة والمطالبة على الأصيل كما كانت۔(المبسوط للسرخسي،كتاب الكفالة ،ج19،ص63)

أنه لا يحبس مع المديون أحد غيركفيله۔(البحر الرائق،كتاب القضاء،فصل في الحبس ،ج6ص478)


فتویٰ نمبر : 4607/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں