بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

نصاب زكوة ميں ضم بالاجزاء كا آسان طريقہ


سوال

آپ کے ویب سائٹ پر ایک مسئلہ ہے کہ چار تولہ سونے کے ساتھ اگر ساڑھے 24 تولہ چاندی یا موجودہ قیمت ہوگی تو زکوۃ واجب ہوگی مہربانی فرماکر یہ تقسیم بالاجزا کا فارمولا بتا دیں اس حساب کے طریقہ کار کی وضاحت بتا دیں۔

جواب

  شریعت مطہرہ کی رو سے  سونے میں وجوب  زکوٰۃ کے لیے نصاب ساڑھے سات تولے سونا ہے ، جبکہ چاندی میں نصاب ساڑھے باون تولے چاندی ہے، اسی طرح سونے یا چاندی کے نصاب کی قیمت کے بقدر نقدی یا مال تجارت کا مالک بھی صاحب نصاب شمار ہوگا، لیکن اگر سونے چاندی میں سے کوئی بھی نصاب مکمل نہ ہو، بلکہ دو ناقص نصاب موجود ہوں، یعنی کچھ سونا اور کچھ چاندی ہو یا اس کے ساتھ کچھ مال تجارت ہو ،یا نقد رقم ہو،تو ایسی صورت میں ان کو باہم ملا کر دیکھا جاےٗ گا، کہ یہ نصاب تک پہنچتے ہیں یا نہیں؟ پھر ایسی صورت میں امام ابو حنیفہ ؒکے ہاں دونوں ناقص نصابوں کی قیمت باہم ملائی جائی گی، جبکہ صاحبینؒ کے نزدیک قیمت کی بجائے اجزا کے اعتبار سے باہم ملایا جائے گا، موجودہ  دور میں ضم بالقیمۃ میں حرج کی وجہ سے ضم بالاجزاء کے طریقے پر جواب دینے میں امت کی لیے آسانی کی صورت پیدا ہو سکتی ہے، اس لیے ہمارے دارالافتاء سے صاحبین کے قول پر فتوی دیا جاتا ہے۔

ضم بالاجزاء کا آسان طریقہ یہ ہے کہ جس مقدار میں سونا موجود ہو اسے سات سے ضرب دیا جائے، کیونکہ سونا اور چاندی کے نصاب کے درمیان ایک نسبت سات (1:7)کی نسبت پائی جاتی ہے،کیونکہ  سونے کے نصاب ساڑھے  سات  تولے  کو اگر  سات سے ضرب دیا جائے، تو حاصل  ساڑھے باون بنتا ہے، اس لیے جو سونا موجود ہو اس کو سات سے ضرب دیا جائے، پھر جو حاصل ضرب ہو اسے ساڑھے باون سے منفی کیا جائے ، اس کا جو حاصل آئے ، اس مقدار میں چاندی یا اس کی قیمت  اگر ملکیت میں موجود ہو تو یہ مکمل نصاب شمار ہوگا ورنہ نہیں۔

"أما الأول فكمال النصاب شرط وجوب الزكاة فلا تجب الزكاة فيما دون النصاب؛ لأنها لا تجب إلا على الغني والغنى لا يحصل إلا بالمال الفاضل عن الحاجة الأصلية۔"(بدائع الصنائع ، كتاب الزكوة، فصل في بيان الشرائط التي ترجع الي المال،ج:2، ص:404، دارالكتب العلمية)

 "ويضم الذهب الی الفضة،والفضة الی الذهب، ويكمل احدى النصابين بالآخرعند علمائنا۔۔۔ ثم قال أبو حنيفة:يضم باعتبار القيمة،وقال أبو يوسف و محمد:يضم بإعتبار الأجزاء يعني بالوزن۔"(الفتاوى التاتارخانية، كتاب الزكوة، فصل في زكوة المال، ج:3، ص:157، مكتبه رشيديه)


فتویٰ نمبر : 8781/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں