بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

حیلہ اسقاط


سوال

ہمارے علاقے میں جنازہ کے فورا بعد حیلہ اسقاط کا عمل کیا جاتا ہے جس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ ایک دائرہ سا بنایا جاتا ہے اس دائرے میں اکثر مساجد کے علماء اور کچھ عام حضرات بھی شامل ہوتے ہیں ایک امام کے سامنے پیسے اور کچھ کھجور دیتے ہیں وہ عالم صاحب اس پر کچھ پڑھ کر ساتھ میں دوسرے شخص کو ہاتھ کے اشارے سے ہبہ کر دیتے ہیں وہ شخص تیسرے کو پھر چوتھے کو وغیرہ اور اس طرح کل ملا کر تین دفعہ یہ عمل دائرہ میں کیا جاتا ہے اس کے بعد وہ رقم جنازہ پڑھنے والے لوگوں میں تقسیم کی جاتی ہے ایک ایک کو 10 یا 20 یا 30 کبھی کبھی پچاس پچاس روپے دیے جاتے ہیں اور کھجور میں سے ہر ایک کو تقریبا ایک ایک مشت کھجور بھی دیتے ہیں اب بعض مقامی علماء نے اعتراض اٹھایا ہے کہ یہ حیلہ اسقاط کا عمل قبرستان میں جائز نہیں ہے کیونکہ اس عمل میں شرائط کا لحاظ نہیں رکھا جاتا اور دلیل میں کفایت المفتی، فتاوی عثمانی، آپ کے مسائل اور ان کا حل وغیرہ وغیرہ پیش کیے جاتے ہیں جب کہ بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ جائز ہے اور یہ صدقہ ہے مستحب عمل ہے اور دلیل میں مفتی فرید صاحب کا فتاوی فریدیہ وغیرہ پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے آباؤاجداد میں جو علماء تھے وہ بھی اس طرح کرتے تھے اب کیا یہ حیلہ اسقاط اس طریقے سے جائز  ہے اگر نہیں تو پھر کیا یہ طریقہ کون سا ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ حیلہ اسقاط کو بعض فقہاءکرام نے ایسے شخص کے لیےتجویز فرمایا تھا جس کی کچھ نمازیں اور روزے وغیرہ فوت ہو گئے ہوں پھر قضا کرنے کا موقع نہ ملا اور موت کے وقت فدیہ کی وصیت تو کی ہو لیکن مرحوم نے اتنا ترکہ نہ چھوڑا ہو جس کے ایک تہائی سےاس کی تمام فوت شدہ نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا کیا جا سکے ایسی صورت میں اگر ورثا صاحب استطاعت ہوں تو بہتر یہ ہے کہ اپنے مال سے مرحوم کی نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا کردیں۔اور اگر ورثا کے پاس بھی گنجائش نہ ہو تو فقہا نے حیلہ اسقاط کی گنجائش ذکر کی ہے جس کی صورت یہ ہے کہ ورثا فدیہ کی نیت سے کچھ رقم کسی غریب ونادار مستحق زکوٰۃ کو دے کر اس کو اس رقم کا اس طرح مالک بنا دیں کہ اگر وہ مستحق رقم واپس کرنے کی بجائے خود استعمال کر لے تو ورثا کو کوئی اعتراض نہ ہو اور وہ مستحق شخص بھی یہ سمجھتا ہو کہ اگر میں یہ رقم مرحوم کے ورثا کو واپس نہ کروں تو انہیں واپس لینے کا اختیار نہیں ہے پھر وہ مستحق کسی قسم کے جبراور دباؤ کے بغیر اپنی خوشی سے وہ رقم ورثا کو واپس کردے اور پھرورثا اسی مستحق کو یا کسی اور مستحق کو اسی طرح مذکورہ طریقے کے مطابق وہ رقم دے دیں اور وہ پھراپنی خوش دلی سے انہیں واپس کردے اس طرح باربار ورثا یہ رقم کسی مستحق کو دیتے رہیں اور وہ اپنی خوشی ومرضی سے واپس کرتا رہے یہاں تک کہ مرحوم کی قضا شدہ نمازوں کے فدیہ کی مقدار ادا ہو جائے تو اس حیلے سے تھوڑی رقم سے سب نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا ہو جائے گا اور پھر وہ رقم سب سے آخر میں جس نادارومستحق شخص کو ملے گی وہی اس رقم کا مالک ہوگا اور اسے ہر طرح اس رقم کو خرچ کرنے کا اختیار ہوگا حاصل یہ ہے کہ اس مجوزہ حیلہ اسقاط میں جن شرائط کا پایا جانا ضروری ہے وہ درج ذیل ہیں:

1-اگر میت نے فوت شدہ نمازوں سے متعلق فدیہ ادا کرنے کی وصیت کی ہو تو ثلث مال سے حیلہ اسقاط کیا جائے گا۔

2-  اگرمیت نے وصیت نہ کی ہو اور ورثا ترکہ سے حیلہ اسقاط کرنا چاہیں تو یہ ضروری ہے کہ تمام  ورثا بالغ ہو اور دل سے اس پر  راضی ہوں ۔

3- اگر کوئی نابالغ وارث ہو تو اس کے حصے میں سےحیلہ اسقاط کی رقم نہ لی جائے بلکہ جو بالغ ورثا یہ حیلہ کرنا چاہتےہیں وہ اپنے اپنے حصوں سے ادا کریں۔

4- جس کو یہ مال دے رہے ہیں وہ مستحق ہو۔

5- اس مستحق فقیر کو اس مال کامالک بنا کر اس پر قبضہ و اختیار دیا جائے۔

6- جس فقیر کو دیا جائے وہ اپنی مرضی اور دلی رضامندی سے وہ مال میت کے ورثا کو ہبہ کرے اس پر کوئی زور زبردستی نہ کی جائے۔

چنانچہ اگر محررہ طریقہ اور مذکورہ شرائط کی روشنی میں  حیلہ کیا جائے تو فقہاء کی تصریحات کے مطابق امید کی جاتی ہے کہ جان کی خلاصی کا ذریعہ بنے لیکن اس کو لازم جان کر بطور رسم و رواج ہرمردہ کے لیےحیلہ اسقاط کروانا زیادت علی الشرع کے مترادف ہے جس کی اجازت شریعت نہیں دیتی۔

صورت مسئولہ میں چونکہ عموما مندرجہ بالا شرائط کو ملحوظ نظر نہیں رکھا جاتا اور حسب بیان مذکورہ صورت میں مرحوم کے ورثا کی طرف سے علیحدہ علیحدہ تملیک متحقق نہیں ہوتی ہے نیز مالدار شخص کو بھی حیلہ کی رقم دی جاتی ہے لہذا شرعاً اس طرح حیلہ اسقاط سے فوت شدہ نمازوں کا فدیہ ادا نہیں ہوتا لھذا اس سے اجتناب ضروری ہے۔

(ولو مات وعليه صلوات فائته وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة(وكذاحكم الوتر)والصوم،وإنمايعطى (من ثلث ماله)ولم يترك مالا يستقرض وارثه نصف صاع مثلا ويدفعه الفقير ثم يدفعه الفقير للوارث ثم وثم حتى يتم وقال ابن عابدين: ثم ينبغي بعد تمام ذلك كله أن يتصدق على الفقراء بشيء من ذلك المال أو بما أوصى به الميت إن كان أوصى۔( ردالمحتار على صدر الدرالمختار،كتاب الصلاة،باب قضاءالفوائت،ج2/ص532،دارالكتب العلميه)

إذا أراد أن يؤدي الفدية عن صوم أبيه أو صلاته وهوفقير،فإنه يعطي منوين من الحنطة فقيرا،ثم يستوهبه،ثم يعطيه هكذا إلى أن يتم۔ (الفتاوى الهندية،كتاب الحيل،الفصل الرابع فى الصوم،ج6/ص395، دارالفكر)

وإن لم يترك مالا تستقرض ورثته نصف صاع ويدفع إلى المسكين ثم يتصدق المسكين على بعض ورثته ثم يتصدق ثم وثم حتى يتم لكل صلاة ما ذكرنا ولو قضاها ورثته بأمره لايجوز وفى الحج يجوز۔(البحرالرائق،كتاب الصلاة،باب قضاءالفوئت،ج2/ص160)


فتویٰ نمبر : 4627/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں