بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

پنشن کی رقم میں میراث کا حکم


سوال

ایک عورت (ایل ایچ وی پوسٹ)پر ملازمہ تھی۔ اس  کا انتقال ہوگیا،مرنے کے بعد حکومت کی طرف سے اس عورت کو 9لاکھ کا پنشن ہوا،مرحومہ کے ورثامیں ماں،باپ اور خاوند ہیں اور کوئی نہیں ،اب یہ پنشن ماں،باپ ،خاوندکو کتنا کتنا حصّہ ملے گا؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے میراث کے احکام میت کے ترکہ میں جاری ہوتے ہیں،یعنی جو مال بوقت وفات میت کی ملکیت میں داخل ہو،وہ ورثا میں بقدر حصص تقسیم کیا جائے گااور جو مال بوقت وفات اس کی ملکیت میں نہ ہو،بلکہ اس کی وفات کے بعد کسی پیکج وغیرہ کی صورت میں میت کے پسماندگان کو دیا جائے،وہ ترکہ میں شمار نہ ہوگا۔

پنشن کی رقم حکومت یا کسی بھی ادارے کی طرف سے عطیہ ہوتی ہے،جو قبضہ کے بغیر ملکیت میں داخل  نہیں ہوتی ،لہٰذاصورت مسئولہ میں میت کے مرنے کے بعد جو پنشن کی رقم ملتی ہے اس میں میراث جاری نہ ہوگا ،بلکہ حکومت کے قوانین کے مطابق یہ مراعات ورثا میں سے جس کو ملیں وہی اس کا مالک ہوگا ،میت کے باقی ورثا اس میں حقدار نہ ہوں گے۔

العطايا لايورث عنه(شرح الاشباه والنظائر، كتاب الفرائض، ج:2 ص:495 إدارة القرآن والعلوم الإسلامية)

ولا يصح الصلح والاعتياض؛ لأن الاعتياض عن حق الغير لا يصح ولا يجري فيه الإرث؛ لأن الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث على ما قال «- عليه الصلاة والسلام - من ترك مالا أو حقا فهو لورثته» ولم يوجد شيء من ذلك فلا يورث ولا يجري فيه التداخل؛ لما ذكرنا.(بدائع الصنائع، كتاب الحدود ، ج:9 ص:250 دارالكتب العلمية)


فتویٰ نمبر : 4111/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں