بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مسجد کے صحن سے وضوخانہ یا استنجاخانہ کے لیے جگہ دینا


سوال

مسجدصحن سے بالکل متصل ایسا استنجا خانہ بنا نا جائز ہے یا نہیں کہ استنجا کرنے والے کا دایاں پاؤں مسجد میں ہو اوربایا ں پاؤں اٹھا کر استنجا خانے میں رکھے واپسی پر دایاں نکالتے ہی مسجد میں رکھے ایسی صورت میں استنجا کرنے والے آدمی کے پاؤں پر گندے پانی کے قطرات بھی اکثر لگتے ہیں یوں مسجد میں پاؤں رکھ کر مسجد ناپاک ہوگا ۔جبکہ ہمارے پاس نیچے منزل میں اس مقصد کیلئےاور کوئی جگہ نہیں تو شرعاً مسجد کے صحن سے دو فٹ کے برابر زمین وضوخانہ اوریا اسی سمت میں استنجا خانہ کے راستہ کیلئے کاٹنا ہمارے لیے جائز ہے یا نہیں ؟ (2)مسجد سے متصل ایک کنواں ہے جس سے محلہ والے پانی لاتے ہیں تو ازروئے شرع کنویں سے پانی لانے کی غرض سے لوگوں کے لیے مسجد صحن سے راستہ کاٹنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

جو جگہ مالک ِ زمین کی طرف سے  مسجد کے لیے وقف کی جائے اور مالک کی اجازت سے اس میں ایک مرتبہ نماز باجماعت ادا کی جائے تو شرعا ً وہ زمین تاقیامت  نیچے سے اوپر تک مسجد شرعی کے حکم میں ہوتی ہے لہذا پھر اس کا کوئی  بھی حصہ مسجد کے علاوہ  کسی مقصد مثلاً طہارت خانہ یا غسل خانہ کے لیے مخصوص ومتعین کر نا جائز نہیں  ۔

          صورت مسؤلہ میں اگر   مسجدکا یہ  صحن پہلے سے  مسجد میں داخل ہو یعنی اس میں مالک ِ زمین کی اجازت  سے نماز باجماعت  ہو چکی ہو تو شرعاً اس صحن کی زمین   بھی مسجد  ِ شرعی  کے حکم میں ہے لہذا اس کا کچھ حصہ وضوخانہ یا استنجا خانہ اور یا راستہ کے لیے دینا  جائز نہیں ۔

جہاں تک مسجد سے متصل  ایسی جگہ  استنجا خانہ بنانے   کا مسئلہ ہے  کہ وہ جگہ مسجدکے حدود سے باہر ہو لیکن استنجا خانہ  سے نکلتے ہی مسجد میں قدم رکھنے پڑے  تو شرعاً  خارجِ مسجد  میں  ایسا استنجا خانہ بنانا  اگر چہ جائز ہے لیکن مسجد کے متصل  استنجا  خانہ  بنانے سے  چونکہ  مسجد  کی صفائی  اور پاکی متاثر  ہونے کا قوی اندیشہ ہے  لہذا اس سے  اجتناب کرنا چاہیے۔البتہ مسجد سے متصل  محض  وضوخانہ  بنانے میں  چونکہ عموماً یہ اندیشہ  نہیں ہوتا لہذا مسجد کے حدود سے متصل  وضو خانہ  بنانے  کی گنجائش ہے ۔

قال الله تعالى: وَعَهِدْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ (البقرة:125)

دخل فيه بالمعنى جميع بيوته تعالى؛فيكون حكمها حكمه في التطهيروالنظافة۔(الجامع لاحكام القرآن للقرطبي،ج2ص114)

 يعني الكعبة أضافه إليه تشريفاً وتفضيلاً وتخصيصاً ، أي ابنياه على الطهارة والتوحيد , وقيل طهراه من سائر الأقذار والأنجاس۔(تفسير الخازن،ج1ص89)

لو تمت المسجديةثم أراد البناء  منع۔وقال ابن عابدين  : وبهذا علم أيضا حرمة إحداث الخلوات في المساجد كالتي في رواق المسجد الأموي ولا سيما ما يترتب على ذلك من تقذير المسجد بسبب الطبخ والغسل ونحوه۔(الدر المختارمع رد المحتار،كتاب الوقف ،مطلب في أحكام المسجد،ج6ص548)

وكذا يكره بول وغائط في ماء ولو جاريا وبجنب مسجد ۔(الدر المختار،كتاب الطهارة ،باب الأنجاس ،ج1ص342)

ويكره الوضوء والمضمضمة( والمضمضة )في المسجد إلا أن يكون موضع فيه اتخذ للوضوء ولا يصلی فيه۔(البحر الرائق،كتاب الصلوة ،باب مايفسد الصلوة  وما يكره فيها ج2ص61)


فتویٰ نمبر : 4605/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں