بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

ورثاء کے لیے وصیت کرنے کاحکم


سوال

ایک آدمی نے اپنے تمام (پانچ)بچوں کو جائیداد کا حصہ دے دیا ان میں سے صرف ایک اپنے والد کا فرمانبردار ہے اور خدمت کرتا ہے۔اس وجہ سے والد صاحب نے باقی چار بچوں سے  عہد مکتوب لیاکہ میرے مرنے کے بعدبقیہ میراث صرف اسی فرمانبرداربیٹے کو ملے گا اور باقی چار اس سے مطالبہ نہیں کرینگے۔تو کیا اس صورت میں وصیت درست ہے اور عہد کرنے کے بعد باقی چار بیٹے میراث کا مطالبہ کرسکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ کسی شخص کا اپنے ورثاکے لیے وصیت کرنا شرعا جائز نہیں،اس لیے کہ شریعت نے ہر وارث کے لیے اپنا حصہ مقرر کیا ہے جو مرنے والے کی موت کے بعد اس کے زندہ ورثا کو دیا جاتا ہے تاہم اگر کوئی شخص زندگی میں اپنی خوشی اور رضامندی سے مملوکہ مال وجائیداد اولاد کو دینا چاہے توہبہ کرسکتا ہے البتہ ہبہ کے تام ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ جو چیز ہبہ کی جائے اس پر قبضہ اور تصرف کا مکمل اختیار بھی دیا جائے کیونکہ قبضہ کے بغیر ہبہ پورا نہیں ہوتا ۔

صورت مسئولہ میں اگر مرحوم نے واقعی اپنی زندگی میں کچھ جائیداد اپنے بچوں کو ہبہ کرکے قبضہ بھی دیا ہو تو شرعا اس جائیداد میں میراث کے احکام جاری نہ ہوں گے۔بلکہ وہ انہیں کی ملکیت شمار ہوگی لیکن جو جائیداد مرحوم نے اپنی زندگی میں اپنی ملکیت میں  چھوڑی ہو اور موت کے بعد کسی ایک بیٹے کو وہ جائیداد دینے کا کہا ہو تو شرعا چونکہ وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں ۔لہذا اس جائیداد میں سب ورثا اپنے اپنے حصص کے مطابق حقدار ہوں گے۔

( ولا تجوز لوارثه )لقوله عليه الصلاة والسلام إن الله تعالى أعطى كل ذي حق حقه ألا لا وصية لوارث۔(الهداية،كتاب الوصايا، ج4ص639)

  وَلَوْ وَهَبَ رَجُلٌ شيئا لِأَوْلَادِهِ في الصِّحَّةِ وَأَرَادَ تَفْضِيلَ الْبَعْضِ على الْبَعْضِ في ذلك لَا رِوَايَةَ لِهَذَا في الْأَصْلِ عن أَصْحَابِنَا ...عن أبي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ إذَا لم يَقْصِدْ بِهِ الْإِضْرَارَ وَإِنْ قَصَدَ بِهِ الْإِضْرَارَ سَوَّى بَيْنَهُمْ يُعْطِي الِابْنَةَ مِثْلَ ما يُعْطِي لِلِابْنِ وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى.(الفتاوى الهندية،الباب السادس فى الهبة، ج4ص391)


فتویٰ نمبر : 4604/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں