بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

بغیرگواہوں کےایجاب وقبول کرنےکےبعدلوگوں کوخبردینےسےانعقادنکاح کاحکم


سوال

اگرتنہائی میں لڑکااورلڑکی ایجاب وقبول کریں اوراپنے جاننےوالوں سےاس بات کو چھپاکررکھیں۔دونوں مستقبل قریب میں باضابطہ شادی کرنےکاارادہ رکھتےتھے۔دونوں نےکافی مرتبہ مختلف انجان لوگوں کے سامنے خود کو میاں بیوی ظاہر کیا۔اورجسمانی تعلق بھی ان کےدرمیاں قائم رہا۔بارہا ایک دوسرے کوسرتاج،بیگم وغیرہ کہہ کر پکارا۔ایک سال سے زائد عرصہ اسی طرح ساتھ گزار ۔لڑکی ماہانہ کچھ نان ونفقہ بھی لیتی تھی۔تحقیق کرنے پر پتہ چلاکہ اسلام میں اس طرح کے نکاح کو باطل نکاح کہا جاتاہے کیونکہ باقاعدہ گواہ موجود نہیں تھے۔مہربانی فرماکر درجہ ذیل سوالات کےبارےمیں رہنمائی فر مادیں۔-1 جن انجان لوگوں کے سامنے خود کو میاں بیوی ظاہر کیا گیا ہے  کیا وہ لوگ گواہ تسلیم کیےجا سکتے ہیں؟اور کیااس طرح یہ نکاح صحیح میں تبدیل ہو چکا ہے یا نہیں؟2-اگر یہ ابھی تک باطل ہی ہے تواسےصحیح  کیسے کیا جاسکتا ہے؟3-اگرلڑکی بعد میں اپنے گھر والوں کے دباؤ پر ان سب سے مکر جائے تو پھراس نکاح کی شرعی   حیثیت کیاہے؟

جواب

        شرعی نقطہ نظر سےنکاح کےانعقاداورصحت کے لیےارکان نکاح(ایجاب وقبول)کی ادائیگی کےوقت گواہوں کا موجودہونابھی ضروری ہے۔ یعنی ایجاب وقبول کے وقت دوعاقل،بالغ،آزاد،مسلمان مرد یا ایک مرداور دوعورتیں موجود ہوں۔اگرعقد نکاح کے وقت گواہان موجود نہ ہوں اورعاقدین بعد میں دو یادو سے زیادہ لوگوں کےسامنے خود کومیاں بیوی ظاہرکریں یاخبردےدیں تو محض اس طرح ظاہرکرنےاورخبردینےسےنکاح منعقد نہیں ہوگا۔

          چنانچہ صورت مسئولہ میں:

1-اگرواقعی لڑکےاورلڑکی نےتنہائی میں بغیر گواہوں کے ایجاب وقبول کر لیا ہو توگواہان موجودنہ ہونےکی وجہ سے یہ نکاح منعقد نہیں ہوا۔اگرچہ بعد میں یہ دونوں لوگوں کو اپنے اس ایجاب وقبول کی خبر دے دیں اس لیے کہ محض خبر دینے سے نکاح منعقد نہیں ہوتا۔بلکہ ازسر نو شرعی گواہا ن کے سامنے باقاعدہ ایجاب وقبول کرنا نکاح منعقد ہونےکےلیے ضروری ہے۔

2-سوال میں مذکورہ صورت حال اگر حقیقت پر مبنی ہو تو شرعاً یہ نکاح منعقد نہیں ہوا ہے۔اب اگر لڑکااورلڑکی اپنی رضامندی سے شرعی گواہان کی موجودگی میں از سرنو نکاح کریں تو نکاح منعقد ہوسکتا ہے۔

3-مذکورہ صورت میں جب نکاح منعقد ہی نہیں ہوا تولڑکی کے انکار واقرا رکا کو ئی فائدہ نہیں۔

قال ولاینعقدنکاح المسلمین إلابحضورشاھدین حرین عاقلین بالغین مسلمین رجلین  أورجل وامرأتین۔(الھدایۃ،کتاب النکاح،ج:3،ص:5،مکتبۃالبشری)

قال: ولو تزوج امرأة بغير شهود أو بشاهد واحد ثم أشهد بعد ذلك لم يجز النكاح لأن الشرط هو الإشهاد على العقد ولم يوجد وإنما وجد الإشهاد على الإقرار بالعقد الفاسد والإقرار بالعقد الفاسد ليس بعقد وبالإشهاد عليه لا ينقلب الفاسد صحيحا.(کتاب المبسوط للسرخسی، کتاب النکاح، باب النکاح بغیر شھود،ج:۵،ص:۳۵)


فتویٰ نمبر : 6231/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں