بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

پيدائش كے وقت آپريشن كا خرچہ، بچے كو دودھ پلانے كى ذمہ دارى


سوال

 آج كل بچے كى ولادت كى وقت آپریشن وغيره پر جو خرچہ  آتا ہے يہ خرچہ والد كے ذمے لازم ہوگا يا والده كے ذمے؟ (2)  بچے كى پيدائش كے بعد اگر ماں كا دودھ ميسر  نہ ہو اور اس كے ليے خشك دودھ استعمال كيا جاتا ہو تو اس كا خرچہ كس كے ذمے لازم ہوگا؟ والد كے ذمے يا والده كے ذمے؟

جواب

 واضح رہے كہ بيوى كا نفقہ شوہر پر واجب ہے، ليكن فقہا كرام كى تصريحات سے يہ بات معلوم ہوتى ہے كہ شريعت مطہره ميں نفقہ كى كوئى خاص تحديد نہيں ہے بلكہ اس كا دارومدار عرف پر ہے۔ عرف ميں جو چيزيں عورت كى ضروريات ميں شامل ہوں اس كا پورا كرنا شوہر كے ذمے لازم ہوگا اور ضروريات لوگوں كى طبائع، حالات اور اوقات كے اعتبار سے تبديل ہوتى رہتى ہیں۔ موجوده دور ميں چونكہ بيماريوں كى كثرت كى وجہ سے عورت كا علاج ومعالجہ ضروريات ميں سمجھا جاتا ہے اس ليے ولادت كے وقت آپريشن اور ديگر  بيماريوں  كے علاج معالجہ كا خرچہ عورت كے نفقہ ميں شامل ہوكر شوہر كے ذمے لازم ہوگا، اسى طرح نابالغ بچوں كا خرچہ پيدائش كے مراحل سے لے كر بلوغت تك باپ پر  لازم ہے، چاہے مياں بيوى ساتھ ہوں يا ان كے درميان جدائى ہوگئى ہو۔ صورت مسئولہ ميں  (1) اگر ولادت كى وقت آپريشن كى ضرورت پيش آئے تو چونكہ بيوى كا علاج معالجہ شوہر پر لازم ہے اور اس آپریشن کا فائدہ بچے کو بھی ہے اور بچے کے اخراجات باپ پر ہوتے ہیں اس ليے اس آپريشن كا خرچہ باپ پر لازم ہوگا۔ (2) اگر ماں بچےكو دودھ پلانے سے قاصر ہےتو پھر يہ ذمہ دارى چونكہ باپ پر لازم ہے، اس ليے ماں كے دودھ كى متبادل صورت چاہے كوئى مرضعہ ہو يا خشك دودھ ہواس كا خرچہ باپ پر لازم ہوگا نہ کہ ماں پر۔  

 ليس في النفقة عندنا تقدير لازم؛ لأن المقصود من النفقة الكفاية وذلك مما يختلف فيه طباع الناس وأحوالهم ويختلف باختلاف الأوقات أيضا.(البحر الرائق شرح كنزالدقائق، كتاب الطلاق، باب النفقة، ج:4، ص:296)

وفيه أجرة القابلة على من استأجرها من زوجة وزوج ولو جاءت بلا استئجار،(قوله قيل عليه إلخ) ويظهر لي ترجيح الأول؛ لأن نفع القابلة معظمه يعود إلى الولد فيكون على أبيه.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطلاق، باب النفقة،ج:5، ص: 291)

ونفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد.(الهداية، كتاب الطلاق، باب النفقات، ج:3، ص:333)

إن كان الصغير رضيعا فليس على أمه أن ترضعه ويستأجر الأب من ترضعه عندها.(الهداية، كتاب الطلاق، باب النفقات، ج:3، ص:334) 


فتویٰ نمبر : 6224/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں