بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

کسی وارث کا ترکہ کے عوض بقیہ ورثاء کو رقم یا زمین دینا


سوال

اگر ورثاء میں سے کوئی ایک وارث تمام متروکہ مال وجائیدادخود لے کر بقیہ ورثاء کو ان کے حصوں کے بدلے رقم یا زمین وغیرہ دے دے اور وہ سب اس پر راضی بھی ہوں ، تو کیا شرعا ایسا کرنا درست ہوگا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ میت کے فوت ہونے کے بعد اس کے متروکہ مال و جائیداد میں ورثاء  اپنے شرعی حصص کے بقدر مستحق ہوتے ہیں   لیکن اگر کوئی  وارث متروکہ مال  میں اپنا حصہ چھوڑکر اس کے بدلے رقم لینے پر راضی ہو  تو اس کی بھی اجازت ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی ایک وارث متروکہ مال وجائیداد  خود لے کر بقیہ ورثاء کو ان کے حصئہ میراث کے عوض رقم یا کوئی زمین وغیرہ  دے دے اور  سب ورثاء اس پر راضی ہوں تو اس قسم کی صلح کرنے  میں  شرعاً کوئی قباحت نہیں۔

إذا كانت التركة بين ورثة فأخرجوا أحدهما منها بمال أعطوه إياه والتركة عقار أو عروض صح قليلا كان ما أعطوه أو كثيرا۔  (الفتاوى الهندية،كتاب الفرائض،الباب الخامس،ج4،ص269)

قال رَحِمَهُ اللَّهُ ( فَإِنْ وَقَعَ عن مَالٍ بِمَالٍ بِإِقْرَارٍ اُعْتُبِرَ بَيْعًا ) لِأَنَّ مَعْنَى الْبَيْعِ قد وُجِدَ فيه  وهو مُبَادَلَةُ الْمَالِ بِالْمَالِ عن تَرَاضٍ فَتَجْرِي فيه أَحْكَامُ الْبُيُوعِ، وَهَذَا لِأَنَّ الْأَصْلَ في الصُّلْحِ أَنْ يُحْمَلَ على أَشْبَهِ الْعُقُودِ له فَتَجْرِيَ عليه أَحْكَامُهُ۔  (تبيين الحقائق، كتاب الصلح،ج5،ص471)


فتویٰ نمبر : 4100/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں