بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 23/10/2026 |
دارالافتاء
تقریبات میں کھڑے ہو کر کھانا پینا
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایسی دعوت ولیمہ میں جانا کیسا ہے جہاں پر کھانا پینا کھڑے ہو کر کھایا جاتا ہو ۔اگر ایک شخص ایسی دعوت ولیمہ میں شریک ہو جائے جہاں کھاناوت ولیمہ میں جانا کیسا ہے؟ جہاں پر کھانا ہینا کھڑے ہو کر کھایا جاتا ہو ۔اگر ایک شخص ایسی دعوت ول پینا کھڑے ہو کر کھایا جاتا ہو اور اس کو پہلے سے معلوم نا ہو تو شرعاً ایسا شخص کھانا کھائے بغیر واپس لوٹے ،یا کھڑے ہو کر کھائے ،یا کہیں پر الگ بیٹھ کر کھائے ؟
جواب
واضح رہے کہ دعوت ولیمہ ایک مسنون عمل ہے،دعوت ملنے پر ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کی دعوت قبول کرنی چاہیے،جیسا کہ ارشاد نبوی ہے کہ"جب تم میں سے کسی کو ولیمہ میں شرکت کی دعوت دی جائے،تو چاہیے کہ اس میں آئے"لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہاں کھانا بھی کھائے،چنا نچہ اگر کوئی شرعی یا طبعی رکاوٹ نہ ہو تو کھائےورنہ چھوڑدے،جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہےکہ"اگر چاہے تو کھائے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے"۔نیز کھانے پینے کے آداب میں سے ہےکہ بیٹھ کر کھایا جائے،جیسا کہ نبی کریم ﷺ،صحابہ کرام ؓ، اکابرین وصلحاےامت کا عام معمول بیٹھ کر دسترخوان بچھا کر اس پر کھانا رکھ کر کھانے کا رہا ہے ،عام حالات میں چلتے پھرتے کھانا پینا مکروہ ہے ،البتہ اگر مجبوری ہو یا بیٹھنے کی جگہ نہ ہو تو کھڑے ہو کر کھانے کی گنجائش ہے ،اسی طرح اگرکھانا تو بیٹھ کر ہی کھایا جائے ،لیکن بطور تفکہ ولذت استعمال ہونے والی اشیا (پھل ،چاکلیٹ وغیرہ)میں سے کچھ چلتے پھرتے کھا لی جائے تو اس کی گنجائش روایات میں موجود ہے،تاہم اس کا معمول بنانا خلاف سنت و مروت ہے ،لہذا کھڑے ہو کر کھانے کی عادت بنانا یاتقریبات میں کھڑے ہو کر کھانے کی ترتیب رکھنا اسلامی آداب کے خلاف اور مکروہ ہے ،تاہم اگر کبھی اتفاقاً ایسی نوبت پیش آجائے یا مجبوری و عذر ہو توکھڑے ہو کر کھانے میں گناہ نہیں ہوگا،البتہ اگرکوئی عالم فاضل مقتدا شخص ہوجس کے فعل کا اثر متعدی ہو کر دوسرے لوگ اس سے سبق حاصل کرتے ہوں تو ایسى شخص کو احتیاط کرنا چاہئے کہ ایسى محفل میں کسی مناسب جگہ بیٹھ کر کھانا کھائے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو کھانا کھانے کے بجائےصرف حاضری پر اکتفا کرے ۔
عن أنس، عن النبي صلى الله عليه وسلم، أنه نهى أن يشرب الرجل قائما، قال قتادة: فقلنا فالأكل، فقال: ذاك أشر أو أخبث ۔(الصحيح لمسلم، كتاب الأشربة، باب في الشرب قائما، ج:2، ص:173)
أن النهى فيها محمول على كراهة التنزيه وأما شربه صلى الله عليه و سلم قائما فبيان للجواز فلا اشكال ولاتعارض وهذا الذى ذكرناه يتعين المصير إليه۔(شرح النووي على صحيح مسلم ، باب في الشرب قائما، ج:9، ص:5535)
عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُجِبْ عُرْسًا كَانَ أَوْ نَحْوَهُ۔(سنن أبي داؤد،كتاب الأطعمة،باب ماجاءفي إجابةالدعوة، ج:2، ص:169)
وفي الجامع الصغير للسيوطي نهى عن الشرب قائما والأكل قائما ۔ (ردالمحتارعلي الدرالمختار، كتاب الطهارۃ، مطلب في مباحث الشرب قائما، ج:1، ص:255، دارالكتب العلمية)
عن ابن عمر قال : كنا نأكل على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم ونحن نمشي ونشرب ونحن قيام (سنن الترمذى كتاب الآشربه،باب ما جاءفى النهى عن الشرب قائما،ج4 ص265)
إن حديث ابن عمرمحمول على أكل لقمةاو لقمتين،وأكل اشياءلايهتم بالمائدة(تكمله فتح الملهم ج4 ص13)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں