بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

شوہر کا بیوی کی طرف سے زکوۃ ادا کرنا


سوال

ایک عورت کے پاس آٹھ تولہ سونا موجود ہے اس پر کتنی زکوۃ واجب ہے اور زکوۃ کی ادائیگی شوہر پر لازم ہے یا بیوی خود اداکرے گی کیا شوہر کی ادائیگی سے بیوی کا ذمہ فارغ ہو جاتا ہے ؟

جواب

واضح رہے اگر کسی کے پاس سونے کا مقررہ نصاب یعنی ساڑھے سات تولے سونا موجود ہو اور اس پر سال گزر جائے تو اس پر زکوۃ واجب ہوگی ۔

صورت مسئولہ میں جس عورت کی ملکیت میں آٹھ تولےسونا موجود ہے چونکہ یہ مقررہ نصاب سے زائد ہے لہذا اس کی زکوۃ واجب ہوگی اگر چاہے اس کی ادائیگی سونے سے کرے یا سونے کی قیمت فروخت کا حساب لگا کر اس کا ڈھائی فیصد ادا کرے نیز اگر بیوی کی اجازت (صراحتاً یا دلالۃً)سے شوہر زکوۃ کی ادائیگی کرے تو بیوی کا ذمہ فارغ ہو جائے گا  لیکن اگر بیوی کی اجازت (صراحتاً یا دلالۃً)کے بغیر شوہر اس کی طرف سے زکوۃ ادا کرے تو ایسی صورت میں زکوۃ ادا نہ ہوگی ۔

الزكاة واجبة على الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملك نصابا ملكا تاما وحال عليه الحول۔(الهداية ،كتاب الزكوةج 1ص200)

المال الذي تجب فيه الزكاة أدى زكاته من خلاف جنسه أدى قدر قيمة الواجب إجماعا ۔۔۔ ويجوز دفع القيم في الزكاة عندنا۔(الفتاوى الهندية ،كتاب الزكوة ،الفصل الثاني في العروض ج 1ص180،181)

لو أمر غيره بالدفع جاز۔(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الزكوة،مطلب في زكوة ثمن المبيع ج3ص189)

لو أدى زكاة غيره بغير أمره فبلغه فأجاز لم يجز لأنها وجدت نفاذا على المتصدق لأنها ملكه ولم يصر تائبا عن غيره فنفذت عليه ۔۔۔ ولو تصدق عنه بأمره جاز۔(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الزكوة،مطلب في زكوة ثمن المبيع ج3ص188)


فتویٰ نمبر : 8769/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں