بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

سکول والےکابچےکی تاریخ پیدائش برتھ سرٹیفکیٹ کےمطابق درج کرنا


سوال

میری ایک بیٹی ہے،موجودہ حالات کےپیش نظرمیں نےاپنی بیٹی کی عمرپیدائشی سرٹیفکیٹ میں ایک سال کم کردی؛ تاکہ تعلیمی مراحل میں جب وہ آگےتک پہنچےتب عمرکی قید اگر لگےتوکوئی مسئلہ نہ ہو۔اب ایک سکول والےکہہ رہےہیں کہ بچی کی پہلی سانس جھوٹ پرمبنی ہے؛ لہٰذا ہم ایڈمیشن(داخلہ)نہیں دےسکتےاگرایڈمیشن دیاتومیری اللہ کےہاں پکڑہوگی،کیونکہ بچی کی عمرسرٹیفکیٹ میں غلط ہےحالانکہ ہم نےبیٹی کی جواصل عمرہےوہ زبانی بتابھی دی ہے؟ 

جواب

 شرعی نقطۂ نظرسےپیدائشی سرٹیفکیٹ(Birth Certificate)یاسکول سرٹیفکیٹ میں کسی بچےکی عمرتاریخ پیدائش سےکم یازیادہ لکھناجھوٹ اوردھوکہ دہی ہے،اورجھوٹ ودھوکہ دہی کی حرمت نصوص شرعیہ سےثابت ہے؛ لہٰذاعموم بلوی کے بہانےکسی شخص کےلیےیہ جائزنہیں کہ وہ اپنےبچےکی عمرتاریخ پیدائش سےکم لکھے،تاہم اگرکوئی شخص اس جرم کا مرتکب ہوجائےتوسکول والےکےلیےاسی پیدائشی سرٹیفکیٹ کےمطابق ایڈمیشن(داخلہ)دینےکی گنجائش ہے،اس لیےکہ سکول والے اس کےمکلف نہیں کہ وہ حقیقت تک رسائی حاصل کریں،بلکہ اس کی تمام ترذمہ داری والدین پرعائدہوتی ہے،اس لیے ان کےکہنےکےمطابق عمردرج کرنےسےسکول والےگناہ گارنہ ہوں گے۔

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يُنْصَبُ بِغَدْرَتِهِ يَوْمَ القِيَامَةِ (أخرجه البخاري، كتاب الجزية، باب إثم الغادر للبروالفاجر، رقم الحديث:3188، ج:2، ص:1487، البشرى)

عن عبد الله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الصدق يهدي إلى البر، وإن البر يهدي إلى الجنة، وإن الرجل ليصدق حتى يكتب صديقا، وإن الكذب يهدي إلى الفجور، وإن الفجور يهدي إلى النار، وإن الرجل ليكذب حتى يكتب كذابا.(أخرجه مسلم، باب قبح الكذب وحسن الصدق وفضله، رقم الحديث:2607، ج:3، ص:1605، البشرى)

وَوَجْهُ التَّخْفِيفِ عُمُومُ الْبَلْوَى وَالضَّرُورَة وَهِيَ تُوجِبُ التَّخْفِيفَ فِيمَا لَا نَصَّ فِيهِ. (تبيين الحقائق شرح كنزالدقائق، كتاب الطهارة، باب الأنجاس، ج:1، ص:204، دارالكتب العلمية)


فتویٰ نمبر : 4610/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں