بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 24/10/2026 |
دارالافتاء
برائے نام شادی کے بعد طلاق دے کر دوبارہ نکاح کرنا
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک افغانی لڑکے نے کینیڈا میں وہاں کی حکومت سے کچھ سہولیات حاصل کرنے کے لیے ایک افغانی لڑکی ( جس کو کینیڈا کی شہریت حاصل تھی ) سے پیسوں کا وعدہ کر کے نام نہاد شادی کرلی، کہ ان کے درمیان کسی طرح تعلق یا جماع وغیرہ قائم نہیں ہوگا، اور لڑکا خود کو حکومت کے سامنے اس کا شوہر ظاہر کرتا رہا۔ تین سال بعد ان کے درمیان طلاق ہوگئی، طلاق نامہ پر دستخط کرنے کے بعد ان دونوں نے دوبارہ سنجیدگی سے شادی کرنے کے لیے ایک دوسرے سے رجوع کرلیااور لڑکی نے وہ پیسے بھی واپس کر دیے جو اس نے نام نہاد شادی کے عوض لیے تھے، اور اب ان دونوں کے بچے بھی ہیں۔ تو کیا یہ نکاح منعقد ہوا ہے؟ اور اگر نکاح جائز نہیں تو کیا وہ بچے ناجائز اولاد شمار ہوں گے؟ واضح رہے کہ پہلی مرتبہ نام نہاد شادی میں باقاعدہ ایجاب و قبول نہیں ہوا تھا، بلکہ محض کاغذی کارروائی کے ذریعے لڑکا خود کو حکومت کے سامنے اس کا شوہر ظاہر کرتا رہا۔
جواب
واضح رہے کہ نکاح کے انعقاد کے لیے ضروری ہے کہ عاقدین (میاں بیوی) دو مسلمان، عاقل، اور بالغ مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں باقاعدہ ایجاب و قبول کرلیں، لہٰذا اگر کہیں ایجاب و قبول ہی نہ ہوا ہویا ایجاب و قبول تو ہوا ہو مگر دو شرعی گواہ موجود نہ ہوں تو یہ نکاح شرعاً منعقد نہیں ہوگا۔ نیز طلاق کا وقوع نکاح کے قیام پر موقوف ہے، لہٰذا غیر منکوحہ عورت کو طلاق دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔
صورتِ مسئولہ میں حسبِ بیان اگر مذکورہ لڑکے نے پہلی مرتبہ واقعی اس افغانی لڑکی سے با قاعدہ شرعی نکاح نہیں کیا تھا بلکہ محض کاغذی کارروائی کر کے اپنے آپ کو اس کا شوہر ظاہر کیا تھا تو وہ نکاح شرعاً منعقد نہیں ہوا تھا، لہٰذا اس کے بعد دی گئی طلاق بھی لغو ہوگی۔ چنانچہ اگر اس کے بعد ان دونوں نے شریعت کے مطابق دو گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ ایجاب و قبول کر کے نکاح کیا ہو تو یہ نکاح منعقد ہوگا، اور ا س کے بعد پیدا ہونے والے بچے بھی ثابت النسب ہوں گے۔
عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا نذر لابن آدم فيما لا يملك ولا عتق له فيما لا يملك ولا طلاق له فيما لا يملك. ( جامع الترمذي، باب ما جاء لا طلاق قبل النكاح، ج: 3/ ص: 17)
وأما ركنه فالإيجاب والقبول كذا في الكافي...وأما شروطه... ومنها الشهادة قال عامة العلماء إنها شرط جواز النكاح هكذا في البدائع وشرط في الشاهد أربعة أمور الحرية والعقل والبلوغ والإسلام. (الفتاوى الهندية، كتاب النكاح، الباب الأول، ج:1/ ص: 322 )
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں