بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

ایک شریک کا سرمایہ اور دوسرے کی فیکٹری


سوال

زید نے ماربل فیکٹری ایک کروڑ پر بنائی پھر زید نے عمر سے کہا کہ آپ مجھے پندرہ یا بیس لاکھ روپے دے دو اور ہم دونوں اس فیکڑی کو چلائیں گے فیکٹری کا نفع ونقصان دونو ں میں برابر ہوگا ،لیکن فیکٹری زید کی ہوگی عمر صرف اسے چلانے میں اور نفع ونقصان میں زید کے ساتھ شریک ہوگا ۔کیا یہ معاملہ کرنا دونوں کیلئے جائز ہے یا نہیں ؟اگر جائز نہیں تو متبادل جائز صورت کیا ہوسکتی ہے ؟

جواب

شرکت کے لیے ضروری ہے کہ جانبین کی طرف سے نقد رقم ہو یا ایک طرف سے نقد رقم  اور دوسری طرف سے  عمل ہو ،جو مضاربت کی صورت ہے یا دونوں کسی عمل میں شریک ہو ں اور اس کے منافع آپس میں تقسیم  کریں جس کو شرکت ِ اعمال کہا جاتا ہے ۔

صورت ِ مسؤلہ میں  کاروبار کی جو نوعیت  بیان کی گئی ہے   یہ شرکت ِ فاسدہ کے زمرہ میں داخل ہے  جو کہ جائز نہیں ،صحیح جائز صورت  یہ ہوسکتی ہے کہ جانبین نقد رقم ملا کر شریک ہو ں چاہے دونوں کا سرمایہ برابر ہو یا کم وبیش اور سرمایہ ملانے کے بعد نفع کیلئے فیصد کے لحاظ سے تناسب طے کرلیں جبکہ حقیقی نقصان ہر ایک اپنے سرمایہ کے بقدر اٹھائے گا ۔ نیز فیکٹری کا کرایہ طے کیا جائے جو نفع کی تقسیم سے قبل فیکٹری کے مالک  کو ادا کیا جائے ۔

إذا كان لواحد دابة ولآخر أمتعة وتشاركا على تحميل الأمتعة على الدابة وبيعها على أن ما حصل من الربح يكون بينهما مشتركا  فالشركة فاسدة والربح الحاصل يكون لصاحب الأمتعة وصاحب الدابة يأخذ أجر مثل دابته والدكان أيضا مثل الدابة بأن كان لواحددكان ولآخر أمتعة فتشاركا على بيع الأمتعة في الدكان على أن ما يحصل من الربح مشترك بينهما فالشركة فاسدة وربح الأمتعة يكون لصاحبها وصاحب الدكان يأخذ أجر مثل دكانه۔(شرح المجلة لسليم رستم باز ،الكتاب العاشر في انواع الشركات ،الفصل الثالث في الشرائط المختصة بشركة الاموال،رقم المادة 1344،ص716) 

كما لا يجوز أن يكون رأس مالها عروضا  ،لا يجوز أن يكون رأس مال أحدهما  دراهم أو دنانير  ،ورأس مال الآخر عروضا  في مفاوضة وعنان۔(خلاصة الفتاوى ،كتاب الشركة ،الفصل الأول :ج4ص295)

إن الربح بينهما على الشرط والوضيعة أبدا على قدر رءوس أموالهما ۔۔۔ اشتركا فجاء أحدهما بألف والآخر بألفين على أن الربح والوضيعة نصفان فالعقد جائز والشرط في حق الوضيعة باطل فإن عملا وربحا فالربح على ما شرطا وإن خسرا فالخسران على قدر رأس مالهما ۔( الفتاوى الهندية،كتاب الشركة،الباب الثالث في شركة العنان،الفصل الثانيج2ص320)


فتویٰ نمبر : 2820/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں