بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

محلے کی مسجد میں اکیلےنماز پڑھنے کا حکم


سوال

ایک محلے میں دو مسجدیں ہیں ایک پرانی مسجد ہے اور ایک نئی مسجد ہےپرانی مسجد میں پنج وقتہ نماز یں جماعت کے ساتھ نہیں ہوتی ہیں اس میں ایک شخص اکیلا نماز پڑھتا ہے اور دوسری مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز ہوتی ہے ،تو اس شخص کے لیے کیا حکم ہے جو اکیلا مسجد میں نماز پڑھتا ہے کہ  وہ اس پرانی مسجد کو آباد کرے یا پھر جماعت کی نماز میں شامل ہوجائے ؟

جواب

فقہائے کرام کے نزدیک محلہ کی مسجد میں  نماز پڑھنا دوسری مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے جب تک کوئی شرعی عذر مانع نہ ہو ،چنانچہ اگر کسی مسجد میں مؤذن کے علاوہ  کوئی آدمی بھی مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے نہیں آتا تو فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ وہ اذان دےاقامت کرے اور اکیلے نماز پڑھے ،اسی طرح اکیلے نماز پڑھنا دوسری مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے سے افضل ہے ،صورت مسؤلہ میں جو شخص اکیلے نماز پڑھتا ہے اس کے لیے اپنی مسجد کو آباد کرنا بہتر ہے بنسبت اس کے کہ وہ دوسری مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز  پڑھے ، اس کے لیے حکم یہ ہے کہ نماز اذان واقامت کرکے پڑھے تاکہ جماعت کا ثواب بھی مل جائے۔

مؤذن مسجد لا يحضر مسجده أحد  قالوا هو يؤذن ويقيم ويصلي وحده وذاك أحب من أن يصلي في مسجد آخر ۔(ردالمحتارعلی الدرالمختار ،کتاب الصلوۃ ،ج1ص333)

 


فتویٰ نمبر : 8768/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں