بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

طلب خصومت ميں تاخير كی مقدار


سوال

شفعہ کے طلبات ثلاثہ میں شفیع کے لیے کتنی مدت تك تاخیر کی گنجائش ہے اور خصوصا طلب خصومت میں کتنی مدت تک شفیع تاخیر کرسکتا ہے فقہ حنفی میں مفتی بہ رائے کون سی ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ استحقاق شفعہ کے لیے شفیع کے ذمے بالترتیب تین طلبات (طلب مواثبت،طلب اشہادوتقریر اور طلب خصومت )ضروری ہیں ان طلبات ثلاثہ میں سے طلب مواثبت فی الفور ضروری ہےیعنی جس مجلس میں اس کو مشفوعہ جائیداد کی فروختگی کا علم ہو جائے اس کے اختتام تک اگر اس نے طلب مواثبت نہ کی تو حق شفعہ ساقط ہو جائے گا اس کے بعد بلا تاخیر جتنی مدت میں طلب تقریر اور اشہاد ممکن ہو کیا جائے۔ موقع ملنے کے باوجود طلب اشہادنہ کرنے سے حق شفعہ ساقط ہو جائے گا البتہ طلب خصومت میں مفتی بہ قول کے مطابق ایک ماہ تک تاخیر کی گنجائش ہے بغیر کسی معقول عذر کے ایک ماہ سے زائد تاخیر کرنے سے حق شفعہ ساقط ہو جاتا ہے ۔

يلزم في الشفعة  ثلاث طلبات هي طلب المواثبة  وطلب التقرير والإشهاد وطلب الخصومة  والتملك ۔(شرح المجلة ،لسليم رستم باز الكتاب السابع الفصل الثالث،المادة:1028،ص577)

ثُمَّ الطَّلَبِ على ثَلَاثَةِ أَنْوَاعٍ: طَلَب مُوَاثَبَةٍ وَطَلَبُ تَقْرِيرٍ وَإِشْهَادٍ وَطَلَبُ تَمْلِيكٍ أَمَّا طَلَبُ الْمُوَاثَبَةِ فَهُوَ أَنَّهُ إذَا عَلِمَ الشَّفِيعُ بِالْبَيْعِ يَنْبَغِي أَنْ يَطْلُبَ الشُّفْعَةَ على الْفَوْرِ سَاعَتئِذٍ وإذا سَكَتَ ولم يَطْلُبْ بَطَلَتْ شُفْعَتُهُ وَهَذِهِ رِوَايَةُ الْأَصْلِ الْمَشْهُورِ عن أَصْحَابِنَا وَرَوَى هِشَامٌ عن مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى إنْ طَلَبَ في مَجْلِسِ الْعِلْمِ فَلَهُ الشُّفْعَةُ وَإِلَّا فَلَا بِمَنْزِلَةِ خِيَارِ الْمُخَيَّرَةِ وَخِيَارِ الْقَبُولِ ۔۔۔ وَأَمَّا طَلَبُ الْإِشْهَادِ فَهُوَ أَنْ يَشْهَدَ على طَلَبِ الْمُوَاثَبَةِ حتى يَتَأَكَّدَ الْوُجُوبُ بِالطَّلَبِ على الْفَوْرِ ۔۔۔ ثُمَّ طَلَبُ الْإِشْهَادِ مُقَدَّرٌ بِالتَّمَكُّنِ من الْإِشْهَادِ فَمَتَى تَمَكَّنَ من الْإِشْهَادِ عِنْدَ حَضْرَةِ وَاحِدٍ من هذه الْأَشْيَاءِ ولم يَطْلُبْ الْإِشْهَادَ بَطَلَتْ شُفْعَتُهُ نَفْيًا لِلضَّرَرِ عن الْمُشْتَرِي ۔۔۔ وَأَمَّا طَلَبُ التَّمْلِيكِ فَهُوَ الْمُرَافَعَةُ إلَى الْقَاضِي لِيَقْضِيَ له بِالشُّفْعَةِ ۔۔۔ وَعَنْ مُحَمَّدٍ وَزُفَرَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى وهو رِوَايَةٌ عن أبي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى إنْ أَشْهَدَ وَتَرَكَ الْمُخَاصَمَةَ شَهْرًا من غَيْرِ عُذْرٍ تَبْطُلُ شُفْعَتُهُ وَالْفَتْوَى على قَوْلِهِمَا كَذَا في مُحِيطِ السَّرَخْسِيِّ۔(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الشفعۃ ،الباب الثالث في طلب الشفعةج5ص202،201)


فتویٰ نمبر : 2817/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں