بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

اعتکاف سے علاج کے لیے نکلنا


سوال

دوران اعتکاف علاج کی  صورت میں قضا لازم ہو جاتی ہے یا نہیں اور قضاکا طریقہ کیسے ہو گا۔کیا دوران اعتکاف علاج طبعی ضرورت میں شامل ہے؟

 

جواب

 واضح رہےکہ بلا ضرورت  دوران اعتکاف مسجد سے باہر نکلنا مفسد اعتکاف ہے ،البتہ کسی ایسےامر کے لیے باہر نکلنا جائز ہے   ،جس کے بغیر شرعا  یا طبعا کوئی چارہ کار نہ ہو،مثلا پیشاب،پائخانہ ،وضو،غسل واجب اور نماز جمعہ وغیرہ۔

صورت مسئولہ میں اگر کسی معتکف کو اعتکاف کے دوران ایسی  بیماری لاحق ہو جائے جس  کا علاج مسجد سےنکلنے کے بغیر ممکن نہ ہو تو  چونکہ بیماری  بھی عذر طبعی ہے ،اس لیے اس کے لیے نکلنا جائز ہے،تاہم چونکہ یہ عذرکثیر الوقوع نہیں، اس لیے اگر کوئی شخص بیماری کے علاج کے لیے  مسجد سے نکلے گاتو اس  کا اعتکاف فاسد ہو جائے گا، اور اس کی قضا  اس پر لازم ہو گی۔

قضا کا طریقہ کار یہ ہے کہ اگر سنت اعتکاف ہو تو قضا اس ایک دن کی واجب ہو گی ،جس دن کا اعتکاف توڑا تھا ، اور قضا چاہے رمضان میں کرے یا غیر رمضا ن میں دونوں جائز ہے ،اور اگر  قضا واجب اعتکاف کی ہو تو قضا میں نیت کا اعتبار ہوگا ،اگر مسلسل اعتکاف  کرنے کی نیت کی ہو تو نئے سرے  سے تمام  دنوں کے قضا  کرےگا ،اور اگر مسلسل اعتکاف کرنے کی نیت نہ کی ہو تو صرف باقی دنوں کے  اعتکاف کی قضا کرے گا اور  قضا چاہے اعتکاف مسنون کی ہو یا واجب کی بہر صورت اعتکاف کے دنوں میں معتکف کے لیے روزہ رکھنا ضروری ہے۔

 

وَسَوَاءٌ فَسَدَ بِصُنْعِهِ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ كَالْخُرُوجِ وَالْجِمَاعِ وَالْأَكْلِ وَالشُّرْبِ فِي النَّهَارِ إلَّا الرِّدَّةُ، أَوْ فَسَدَ بِصُنْعِهِ لِعُذْرٍ كَمَا إذَا مَرِضَ فَاحْتَاجَ إلَى الْخُرُوجِ فَخَرَجَ أَوْ بِغَيْرِ صُنْعِهِ رَأْسًا كَالْحَيْضِ وَالْجُنُونِ وَالْإِغْمَاءِ الطَّوِيلِ؛ لِأَنَّ الْقَضَاءَ يَجِبُ جَبْرًا لِلْفَائِتِ وَالْحَاجَةُ إلَى الْجَبْرِ مُتَحَقِّقَةٌ فِي الْأَحْوَالِ كُلِّهَا       (بدائع الصنائع، کتاب الاعتکاف، فصل في  حکمه إذافسد، ج:3، ص:34، دارالکتب العلمیة)

(قوله أما النفل) أي الشامل للسنة المؤكدة ،قلت: قدمنا ما يفيد اشتراط الصوم فيها بناء على أنها مقدرة بالعشر الأخير ومفاد التقدير أيضا اللزوم بالشروع تأمل۔۔۔۔۔ أما على قول غيره فيقضي اليوم الذي أفسده لاستقلال كل يوم بنفسه وإنما قلنا أي باقيه بناء على أن الشروع ملزم كالنذر وهو لو نذر العشر يلزمه كله متتابعا، ولو أفسد بعضه قضى باقيه على ما مر في نذر صوم شهر معين.والحاصل أن الوجه يقتضي لزوم كل يوم شرع فيه عند هما بناء على لزوم صومه بخلاف الباقي لأن كل يوم بمنزلة شفع من النافلة الرباعية وإن كان المسنون هو اعتكاف العشر بتمامه تأمل۔      (ردالمحتار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج:3، ص:434، دارالکتب العلمیۃ)

إذامرض المعتکف أواغمی علیه قضی.(الفتاوی التاتارخانیة، كتاب الصوم، الفصل الثاني عشرفي الاعتكاف، ج:3، ص:444)


فتویٰ نمبر : 8785/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں