بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 22/10/2026 |
دارالافتاء
سپرےیاکریم سے زائد بال صاف کرنےکاحکم اورمدت
سوال
۱-زیرناف اوربغل کےبال کتنےدنوںمیں صاف کرنامستحب ہے،اوراس کی آخری حدکتنے دنوں تک ہے؟
۲:مردحضرات کی لیے بغل اورزیرناف بال کس چیزسے صاف کرنا افضل ہے، نیز آج کل مرد حضرات بغل اور زیرناف بالوں کی صفائی کے لیے کریم اور سپرے کا استعمال کر تے ہیں،کیا شرعا یہ جا ئز ہے؟
جواب
واضح رہے کہ ہفتہ میں ایک مرتبہ غسل کرنا، ناخن کا ٹنا،مونچھیں ، زیرناف اور بغل کے بال صاف کرنا مستحب ہے۔بہتر یہ ہے کہ جمعہ کے دن کیا جائے، ہفتہ میں نہ ہو سکے تو دوہفتہ بعد کیا جا ئے، لیکن چالیس دن کے اندر صفائی کرنا ضروری ہے، اگرچالیس دن کے اندرصفا ئی نہ کرے توگنا ہ گار ہوگا۔ نیز مرد وعورت کسی بھی طریقے سے یہ بال دور کر سکتے ہیں ،چاہے استرے کے ذریعے ہو،چونے یاکسی پاؤڈرسےہویا انگلیوں وغیرہ کےذریعےاکھاڑنےسےہو، تاہم عورتوں کے لیے اکھاڑنا یا پاؤڈرکےذریعےمکمل ختم کرنا مستحب ہے۔جب کہ مرد حضرات کے لیے بغل کے بال اور زیرناف بال مونڈنا افضل ہے۔
الأفضل أن یقلم أظفارہ، ویحفی شاربه، ویحلق عانته، وینظف بدنه بالاغتسال فی کل أسبوع مرۃ، فإن لم یفعل ففی کل خمسة عشر یوما، ولا یعذرفی ترکه وراءالأربعین، فالأسبوع ھوالأفضل والخمسة عشرالأوسط، والأربعون الأبعد، ولا عذر فیما وراءالأربعین ویستحق الوعید( الفتاوی الھندیة، کتاب الکراھیة، الباب التاسع عشرفی الختان، ج:5، ص:413)
(و)یستحب (حلق عانته وتنظیف بدنه بالاغتسال فی کل أسبوع مرۃ)(قوله:ویستحب حلق عانته)قال فی الھندیة:ویبتدئ من تحت السرۃ ولو عالج بالنورۃ یجوزکذا فی الغرائب وفی الأشباہ والسنة في عانة المرأۃ النتف (قوله:وتنظیف بدنه)بنحوإزالةالشعرمن إبطیه ویجوز فیه الحلق، والنتف أولی۰وفی المجتبی عن بعضھم وکلاھما حسن۰(ردالمحتارعلی الدرالمختار، کتاب الحظروالإباحة، باب الاستبراء وغیرہ، فصل فی البیع، ج:9، ص:583، دارالکتب العلمية)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں