بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

بہو کا سسر اور ساس کے میراث میں حصہ کا مطالبہ کرنا


سوال

میں مسمی امیر نواب ولداخلاص گل صاحب مرحوم معروض ہوں کہ میرا چھوٹا بھائی شا ہجہان میرے والد صاحب سے پہلے وفات پاچکا ہے ،اب والد مرحوم (اخلاص گل)کے میراث میں ہم بھائیوں بہنوں کے ساتھ تقسیم ِ جائیداد میں زوجہ شاہجہان کا حصہ بنتا ہے یا نہیں ؟ اسی طرح ہماری والدہ زوجہ اخلاص گل مسماۃولاجان مرحومہ کے ترکہ میں زوجہ شاہجہان کتنے حصے کی حقدار ہے؟

جواب

          شرعی نقطہ نظر سے مورث  کی زندگی میں فوت ہونے والا شخص میراث کا مستحق نہیں ہوتا ،اس لیے کہ حقِ  میراث  مورِث کے مرنے کے بعد ثابت ہوتا ہے  ،نیز بہو کو بہو ہونے کی حیثیت سے  وراثت  میں کوئی حصہ  نہیں ملتا کیونکہ بہو میں استحقاقِ ارث کے تین اسباب (قرابت،زوجیت اور ولاء )  میں سے کوئی سبب نہیں پایا جاتا ۔

         صورت مسؤلہ میں شاہجہان اگر واقعتاً اپنے والدین (اخلاص گل ،ولاجان) کی زندگی میں فوت ہوچکا ہو تو شرعاً اس کا  اپنے والدین کے میراث میں کوئی حصہ نہیں بنتا اورجب اس کا حصہ نہیں بنتا تو اس کی بیوہ (زینت آرہ) بھی اپنے سسر(اخلاص گل) اور ساس(ولا جان)  کے میراث میں کوئی حصہ نہیں رکھتی ۔

 الإرث يثبت بعد الموت۔(البحر الرائق،كتاب الفرائض ،ج9ص364)

وشروطه ثلاثة:۔۔۔وجود وارثه  عند موته حقيقة اور تقديرا كالحمل ۔(رد المحتار،كتاب الفرائض،ج10ص491)

ويستحق الإرث بإحدى خصال  ثلاث،بالنسب وهو القرابة ،والسبب وهو الزوجيةوالولاء۔(الفتاوى الهندية،كتاب الفرائض،الباب الأول،ج6ص447)


فتویٰ نمبر : 4096/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں