بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

رضاعی بھائی کی نسبی بھتیجی سے نکاح


سوال

ایک عورت (تجریانہ) نے اپنے شوہر (نور سید) کے دو بھتیجوں (سید وزیر اور سید نذیر ) کو دودھ پلایا ہے ، اب (تجریانہ) اپنے سگے بیٹے (عالم سید ) کا نکاح اپنے شوہر کے ان دو بھتیجوں کے تیسرے بھائی (سید میران) کی بیٹی (آسیہ) سے کرانا چاہتی ہے ، جبکہ (سید میران) نے (تجریانہ ) کا دودگ نہیں پیا ۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا ان کا نکاح جائز ہے یا نہیں؟ یعنی (آسیہ) کے دو چچاؤں (سید نذیر اور سید وزیر) کا (تجریانہ ) کا دودھ پینے کی وجہ سے اس کے بیٹے کے ساتھ اس کا رشتہ حرام تو نہیں؟

جواب

اگر کوئی بچہ مدت رضاعت میں کسی عورت کا دودھ پی لے تو دودھ پلانے والی کے اصول و فروع اس بچے پر اور دودھ پینے والے بچے کے فروع پلانے والی پر حرام ہو جاتے ہیں ، تاہم دودھ پینے والے بچے کے دیگر بہن بھائیوں پر یہ حرمت  اثر انداز نہیں ہوگی۔

صورت مسئولہ میں (سید نذیر اور سید وزیر) کے  سگے بھائی (سید میران) نے اگر  (تجریانہ) کا دودھ نہیں پیا ہے تو  (سید میران) کی بیٹی  کا نکاح (تجریانہ )کے بیٹے(سید عالم ) سے جائز ہے۔

لو كانت أم البنات أرضعت أحد البنين وأم البنين أرضعت إحدى البنات لم يكن للابن المرتضع من أم البنات أن يتزوج واحدة منهن وكان لإخوته أن يتزوجوا بنات الأخرى۔ (رد المحتار،كتاب النكاح،باب الرضاع،ج4،ص410)


فتویٰ نمبر : 6223/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں