بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

قسط ادا نہ کرنے کی صورت میں بیع فسخ کرنا


سوال

زید نے رکشوں کے شوروم سے ایک رکشہ تین لاکھ دس ہزار روپے میں قسطوں پر اس شرط کیساتھ لیا اگر دو مہینوں کی قسط ادا نہ کی گئی تو تیسری قسط پر رکشہ بھی واپس ہوگا اور ادا شدہ قسط بھی واپس نہ ہوگی زید کا شوروم والوں کیساتھ اس شرط پر معاہدہ کرنا کیسا ہے؟

جواب

خریدوفروخت کرتے وقت ایسی شرط لگانا  جو مقتضائے عقد کے خلاف ہو  اور اس میں بائع یا مشتری میں سے کسی کا فائدہ ہو  تو ایسی شرط  عقد کو فاسد کردیتی ہے اور ایسی بیع کا حکم یہ ہے کہ بائع اور مشتری پر اس عقد کو فسخ کرنا لازم ہوتا ہے۔

صورتِ مسؤلہ کےمطابق  ابتداء  عقد میں یہ شرط عائد کرنا کہ اگر دو مہینوں کی قسط ادا نہ کی گئی تو  رکشہ بھی واپس لیا جائے گا اور ادا شدہ قسط بھی ضبط  کی جائے گی ایک   شرط فاسد ہے  اس سے بیع فاسد ہوجاتی ہے اور ایسی شرط پر بائع یا مشتری کی رضا یا عدم رضاکا کوئی اعتبار نہیں بلکہ عقد میں موجود اس خرابی کو جب تک دور نہ کیا جائے  اس وقت تک شریعت کی نگاہ میں یہ بیع درست نہیں ہے، ایسی بیع کو ختم کرنا لازم ہے ۔

وكل شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد المتعاقدين أو للمعقود عليه وهو من أهل الاستحقاق يفسده كشرط أن لا يبيع المشتري العبد المبيع لأن فيه زيادة عارية عن العوض فيؤدي إلى الربا أو لأنه يقع بسببه المنازعة فيعري العقد عن مقصوده۔ (الهداية شرح البدايه ،ج3،ص4)

فالحاصل أن كل جهالة تفضي إلى المنازعة مبطلة فليس يلزم أن ما لايفضي إليها يصح معها بل لا بد مع عدم الإفضاء إليها في الصحة من كون المبيع على حدود الشرع ألا ترى أن المتبايعين قد يتراضيا على شرط لا يقتضيه العقد وعلى البيع بأجل مجهول كقدوم الحاج ونحوه ولايعتبر ذلك مصحّحًا، كذا في فتح القدير۔(البحر الرائق شرح كنز الدقائق ،ج5،ص32)


فتویٰ نمبر : 2815/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں