بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

بیوی کو وائس میسج پر"ایک دو تین تہ پہ ما طلاقہ یی" الفاظ کہنے کا حکم


سوال

میرے بھائی نے اپنی بیوی کو وائس میسج ریکارڈ کر کے یہ کہا کہ "ایک ،دو،تین تی پی ما طلاقہ ای" (تو مجھ پر طلاق ہے) میرا بھائی کہ رہا ہے کہ میری نیت اس سے تکرار کی ہے تو ایسی صورت کتنی طلاقیں واقع ہونگیں؟

جواب

ایک دو تین حقیقتاً اعداد ہیں اور اعداد کسی چیز کی کمیت اور مقدار بیان کرنے کے لیے  وضع کیے گئے ہیں ۔ تاہم معاشرتی حالات میں کبھی ایک ،دو،تین  کے عدد کو طلا ق کا قائم مقام  سمجھ کر استعمال کیا جاتا ہے  پس جہاں طلا ق کا قرینہ پایا جائے وہاں اعداد سے طلا ق واقع ہوگی  اور جہاں قرینہ نہ ہو وہاں طلاق واقع نہ ہوگی ۔

صورت مسؤلہ کے مطابق  اگر واقعی کسی شخص نے میسج ریکارڈ کر کے  اپنی بیوی کو بھیجا ہو  اور اس میں "ایک ،دو،تین تہ پہ ما طلاقہ ای " (ایک،دو،تین تو مجھ پر طلاق ہے) کے الفاظ کہے ہوں تو اس سے تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں شوہر کے تکرارِ طلاق کی نیت کا اعتبار نہیں کیونکہ اس نے تین کے عدد کیساتھ طلاق کا لفظ بھی استعمال کیا ہے  لہذا تین طلاق کیساتھ بیوی مغلظہ ہو گئی ہے   مذکورہ  شخص کے لیے اب بیوی کیساتھ ازدواجی زندگی گزارنا جائز نہیں ہے۔

رجل قال لامرأته "ترايكي  وتراسه"أو قال "تويكي وتوسه"قال أبوالقاسم الصفاررحمه الله تعالی لايقع شيئ ، قال الصدر الشهيد رحمہ اللہ تعالی يقع اذا نوی،قال وبہ یفتی ۔قال القاضی:وینبغی  أن یکون الجواب  علی التفصیل: اذا کان فی حال مذاکرۃ الطلاق أو فی حال الغضب  یقع الطلاق،وان لم یکن لا یقع الا بالنیۃ۔(خلاصۃا لفتاوی،کتاب الطلاق ،ج2،ص98)

اما الصریح ۔۔وَهَذِهِ الْأَلْفَاظُ ظَاهِرَةُ الْمُرَادِ لِأَنَّهَا لَا تُسْتَعْمَلُ إلَّا في الطَّلَاقِ عن قَيْدِ النِّكَاحِ فَلَا يُحْتَاجُ فيها إلَى النِّيَّةِ لِوُقُوعِ الطَّلَاقِ إذْ النِّيَّةُ عَمَلُهَا في تَعْيِينِ الْمُبْهَمِ وَلَا إبْهَامَ فيها۔ (بدائع الصنائع،ج4،ص216)


فتویٰ نمبر : 6222/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں