بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

امام مسجد کا بینک ملازمین سے تنخواہ کی رقم لینا


سوال

زید ایک مسجد میں پیش امام ہے اور اس کے دو وقت کا کھانا محلہ کے گھروں پر نمبر وار ہوتا ہے اور محلہ کے کچھ افراد بینک ملازم ہیں زید کے لیے ان گھروں کا کھانا کیسا ہے؟ یہی لوگ زید کی تنخواہ میں پیسے دیتے ہیں تو ان پیسوں کا کیا حکم ہے؟

جواب

جو مال ناجائز اور حرام طریقے سے حاصل کیا جائے وہ اصل مالک کو واپس لوٹانا واجب ہے ۔ مالک معلوم نہ ہونے کی صورت میں فقراء پر بلا نیت  ثواب صدقہ کیا جائے  گا۔ واجب الاداء حقوق میں اس کا صرف کرنا جائز نہیں ۔

صورتِ مسؤلہ میں اگربینک ملازمین کی آمدنی سود کے علاوہ اور کچھ نہ ہو تو زید کے لیے ان گھروں کا کھانا کھانا اور ان سے تنخواہ میں پیسے وصول کرنا جائز نہیں ۔ ان گھر والوں کو چاہیے کہ قاری صاحب کے  لیے حلال مال سے تنخواہ کا  انتظام کریں اگر قاری صاحب کو حلال مال سے  تنخواہ دینے کا بندوبست  نہ ہو سکے تو انہیں کسی دوسری جگہ ملازمت اختیار کرنی چاہیے۔

 وَالسَّبِيلُ في الْمَعَاصِي رَدُّهَا وَذَلِكَ هَاهُنَا بِرَدِّ الْمَأْخُوذِ إنْ تَمَكَّنَ من رَدِّهِ بِأَنْ عَرَفَ صَاحِبَهُ وَبِالتَّصَدُّقِ بِهِ إنْ لم يَعْرِفْهُ لِيَصِلَ إلَيْهِ نَفْعُ مَالِہ۔(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراھیہ،الباب الخامس عشر فی الکسب،ج5،ص349)

قوله ( الحرام ينتقل ) أي تنتقل حرمته وإن تداولته الأيدي وتبدلت الأملاك۔۔۔وما نقل عن بعض الحنفية من أن الحرام لا يتعدى ذمتين  سألت عنه الشهاب ابن الشلبي فقال هو محمول على ما إذا لم يعلم بذلك۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،مطلب الحرمۃ تتعدد،ج7،ص300،301) 


فتویٰ نمبر : 4595/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں