بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

امام مسجد کےلیے مسجد کا بجلی گیس اور پانی استعمال کرنے کا حکم


سوال

زید (پیش امام ) کو مسجد کیساتھ رہنے کے لیے ایک گھر دیا گیا ہے جس کی بجلی،پانی اور گیس مسجد سے ہے ، دریافت طلب امر یہ ہے کہ ان تینوں چیزوں کا استعمال زید کے لیے کیسا ہے؟

جواب

 مسجد میں چندہ دینے والے اگر کسی خاص مصرف کے لیے چندہ دیں تو اس کو اسی مد میں خرچ کرنا ضروری ہے ۔ لیکن اگر چندہ دہندہ گان کسی خاص مصرف کی تعیین کئے بغیر چندہ دیں تو اس کو عرف کے مطابق  مسجد کے مصارف و مصالح میں خرچ کیا جاسکتا ہے چونکہ مصالح مسجد میں سے امام کی رہائش بھی ہے اورہمارے عرف میں امام مسجد کی رہائش گاہ کا بجلی ، گیس اور پانی کا بل بھی مسجد کے مصالح میں شمار ہوتا ہے  لہذا زید کے لیے بقدرِ ضرورت مسجد کی بجلی، پانی  اور گیس کا استعمال کرنا جائز ہے ۔تاہم اس کو چاہیے کہ بے جا اسراف سے کام نہ لے۔

 وإذا أَرَادَ أَنْ يَصْرِفَ شيئا من ذلك إلَى إمَامِ الْمَسْجِدِ أو إلَى مُؤَذِّنِ الْمَسْجِدِ فَلَيْسَ له ذلك إلَّا إنْ كان الْوَاقِفُ شَرَطَ ذلك في الْوَقْفِ۔(الفتاوی الہندیۃ، الفصل الثانی في الوقف و تصرف القیم و غیرہ ج 2 ص 463 )

وبما ذکرناہ علم  أنہ لو بنی بیتا علی سطح المسجد لسکنی الامام فانہ لا یضر فی کونہ مسجدا لانہ من المصالح .(البحرا لرائق کتاب الوقف قولہ ومن جعل مسجدا تحتہ سرداب ج 5 ص 421 )


فتویٰ نمبر : 4596/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں